کو لکاتہ ، 29/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نےالیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ و مغربی بنگال میں جاری ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تحت ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد ہٹائے گئے 58.20 لاکھ ناموں میں سے غیر قانونی بنگلہ دیشیوں اور روہنگیاؤں کی تعداد کا انکشاف کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے کمیشن پر الزام عائد کیا کہ 2021 میں ریاست میں ترنمول کانگریس کی اسمبلی انتخاب میں جیت کے بعد سے مرکز کی طرف سے بنگال کو خاص طور سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا ایجنڈا ریاست کے لوگوں کو پریشان کرنا ہے۔
ابھیشیک بنرجی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ میں 31 دسمبر کو دہلی میں گیانیش کمار سے ذاتی طور پر ملاقات کروں گا اور ایس آئی آر لسٹ کی تفصیلات کے متعلق بات کروں گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن صحیح لسٹ کیوں چھپا رہا ہے؟ آپ ہندوستان کے الیکشن کمیشن ہیں، بی جے پی کے الیکشن کمیشن نہیں۔ اگر آپ کے پاس بنگلہ دیشیوں کی لسٹ تھی تو اسے جاری کریں، نہیں تو بنگال کے لوگوں سے معافی مانگیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ سیما کھنہ کون ہیں، جو الیکشن کمیشن کا ایپ مینج کر رہی ہیں؟ ہمارے پاس الیکشن کمیشن ایپ میں ان کی خامیوں کو تسلیم کرنے کے اسکرین شاٹ موجود ہیں۔ اگر ہمیں 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن سے جواب نہیں ملا تو ہم کمیشن کا گھیراؤ کریں گے۔
ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری نے یہ بھی کہا کہ بنگال کی آبادی 10.05 کروڑ ہے اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) میں ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ناموں کی تعداد 58.20 لاکھ ہے۔ یعنی یہ آبادی کا صرف 5.79 فیصد ہے، جو ان تمام ریاستوں میں سب سے کم ہے جہاں ایس آر عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو ہٹائے گئے 58.20 لاکھ ناموں میں سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیاؤں کی تعداد کا انکشاف کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کا بنگلہ دیشی-روہنگیائی دراندازی کا مدعا مکمل طور سے فیل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس کی طرف سے بھی الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کی مدد کے لیے ایس آئی آر عمل کے تحت ووٹر لسٹ سے لاکھوں جائز ووٹرس کے نام ہٹا دیے۔ ٹی ایم سی کے ایک وفد نے چیف الیکشن آفیسر منوج اگروال سے ان کے دفتر میں ملاقات کی تھی اور اپنی شکایات درج کرتے ہوئے ایک میمورنڈم سونپا تھا۔ وفد میں وزراء چندریما بھٹاچاریہ، ششی پنجا، اروپ بسواس، مانس بھوئیاں اور ملیہ گھٹک شامل تھے۔
بھٹاچاریہ نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’ہم دیگر ریاستوں کے مقابلے بنگال میں مختلف قوانین اور طریقہ کار نافذ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ غیر حاضر، منتقل شدہ اور دوہرے نام والے ووٹرس کی جانچ کے نام پر الیکشن کمیشن نے تقریباً 58 لاکھ حقیقی ووٹرس کو اَن میپڈ‘ قرار دے کر ہٹا دیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی ریاست کے عوام کو سزا دینے کے لیے ووٹر لسٹ سے 2 کروڑ ووٹرس کے نام ہٹانے کی ایک بڑی سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جنہوں نے بار بار بی جے پی کو مسترد کیا ہے۔