نئی دہلی 17/اکتوبر (ایس او نیوز): ٹی-سیریز کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک میوزک ویڈیو "مودی ہے تو ممکن ہے" آن لائن دنیا میں موضوعِ بحث بن چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی تعریف کے لیے تیار کیا گیا یہ ویڈیو نہ صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوا بلکہ اسے لاکھوں کی تعداد میں عوام کی جانب سے ناپسندیدگی (ڈس لائکس) کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو تقریباً 2 منٹ 55 سیکنڈ پر شتمل ہے، جس میں بالی ووڈ کے فنکار ورون دھون، راجکمار راؤ، ارشد وارسی اور وکرانت میسی شامل ہیں۔
ویڈیو یوٹیوب پر شائع ہوتے ہی تیزی سے وائرل ہوا، مگر حیرت انگیز طور پر اسے لاکھوں ڈِس لائکس موصول ہوئے، جو عام طور پر حکومتی یا سرکاری پروموشنل مواد میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
کانگریس کی سینئر رہنما سپریا شرینیتے نے اس ویڈیو پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ: “یہ ویڈیو حکومت کی مدح سرائی کے لیے جاری کیا گیا، لیکن عوام نے اسے پوری طرح سے مسترد کر دیا ہے۔ لاکھوں ڈِس لائکس اور سوشل میڈیا پر تنقیدی تبصرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگ اب ایسے پروپیگنڈا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔”
یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے سخت تبصرے بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔۔ بعض صارفین نے کہا کہ "ہم ان فنکاروں کی فلمیں اب نہیں دیکھیں گے" اور “مودی کی تعریف کرنے کے لیے فنکاروں کو استعمال کرنا شرمناک ہے۔”
بعض نے ویڈیو کو "سرکاری پروپیگنڈا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فنکاروں کے غیر جانبدارانہ کردار پر سوالیہ نشان ہے۔اس فلم کے اداکار جو اب تک غیر متنازعہ سمجھے جاتے تھے، اچانک عوامی تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز میں ان کے نام شامل ہو چکے ہیں، اور بائیکاٹ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، فنکاروں کی ایسی سیاسی وابستگیاں ان کے فلمی کیریئر پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر جب وہ کسی جماعت یا لیڈر کی پروموشن کا حصہ بنیں۔
"مودی ہے تو ممکن ہے" نعرہ سب سے پہلے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی مہم کا مرکزی پیغام تھا۔
گجرات ہائی کورٹ نے حال ہی میں یہ فیصلہ دیا کہ صرف یہ نعرہ بلند کرنا انتخابی مہم (canvassing) نہیں مانا جائے گا اور یہ ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ اس نعرے کا استعمال سیاسی اثرات مرتب کرتا رہا ہے اور اب ویڈیو کی شکل میں اسے ایک بار پھر عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔:
ویڈیو کا مقصد وزیر اعظم مودی کی قیادت کو مثالی قرار دینا اور سرکاری کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے، لیکن عوامی ردِ عمل نے یہ ثابت کر دیا کہ ہر پبلسٹی کو مثبت ردِ عمل نہیں ملتا۔
سوشل میڈیا پر جاری طنزیہ پوسٹیں، میمز اور تبصرے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اب عوام ایسے مواد پر فوری اور براہِ راست ردِ عمل دینے سے گریز نہیں کرتے۔
"مودی ہے تو ممکن ہے" ویڈیو کی ریلیز کے بعد پیدا ہونے والا تنازعہ اس بات کی علامت ہے کہ سیاست، تفریح، اور عوامی شعور کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔
جہاں حکومت اسے کامیاب تشہیر سمجھتی ہے، وہیں عوام کا رویہ کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔
اس ویڈیو نے صرف ایک نعرے کو نہیں بلکہ حکومت، فنکاروں اور میڈیا کے کردار پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔