ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل : جنگلاتی حقوق کے قانون سے متعلق بیداری ریلی ؛ تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے رویندرا نائک نے زمین کے حقوق کے لیے تین نسلوں کی دستاویزات طلب کرنے کو کہا غیرقانونی

بھٹکل : جنگلاتی حقوق کے قانون سے متعلق بیداری ریلی ؛ تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے رویندرا نائک نے زمین کے حقوق کے لیے تین نسلوں کی دستاویزات طلب کرنے کو کہا غیرقانونی

Wed, 03 Dec 2025 14:10:24    S O News
بھٹکل :  جنگلاتی حقوق کے قانون سے متعلق بیداری ریلی ؛  تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے رویندرا نائک نے  زمین کے حقوق کے لیے تین نسلوں کی دستاویزات طلب کرنے کو کہا غیرقانونی

بھٹکل 3 دسمبر (ایس او نیوز): سرکاری جنگلاتی زمین پر برسوں سے آباد ’آتی کرم داروں‘ کو بے دخل کرنے کی کوششوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے جنگلاتی حقوق کے کارکنوں نے ضلع سطح پر ’’فاریسٹ ڈویلرز لیگل اویئرنیس ریلی‘‘ کا اہتمام کیا۔ ریاستی فاریسٹ لینڈ رائٹس اسٹرگل کمیٹی کے ریاستی صدر رویندرا نائک کی قیادت میں بدھ کو سرکیوٹ ہاؤس سے منی وِدھان سودھا (تعلقہ انتظامیہ بلڈنگ) تک ریلی نکالی گئی، جس میں مظاہرین نے واضح مطالبہ کیا کہ عرصۂ دراز سے جنگلاتی زمینات پر رہائش پذیر خاندانوں کو کسی بھی صورت بے دخل نہ کیا جائے۔

منی وِدھان سودھا میں اسسٹنٹ کمشنر کاویا رانی کی غیر موجودگی میں بھٹکل تحصیلدار ناگیندرا کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے رویندرا نائک نے بتایا کہ جنگلاتی حقوق قانون کے تحت روایتی جنگلاتی باشندوں سے اُن کی آبادکاری کے حق کے لیے تین نسلوں کی مخصوص ذاتی دستاویزات طلب کرنا قانوناً درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2012 کی ترمیم کے بعد ایسی شرط کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔

رویندرا نائک کے مطابق گجرات ہائی کورٹ سمیت متعدد قانونی حوالوں میں واضح کیا گیا ہے کہ روایتی جنگلاتی باشندوں سے اس نوعیت کے سخت دستاویزی ثبوت مانگنا قانون کے خلاف ہے۔ مرکزی وزارتِ قبائلی امور نے بھی اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ صرف دستاویزات کی کمی کی بنیاد پر درخواستوں کو مسترد کرنا غیر مناسب ہے۔ وزارت کے مطابق تین نسلوں کی رہائش کا ذکر صرف اس حد تک ہے کہ کسی علاقے کو روایتی طور پر آباد شدہ مانا جا سکے، لیکن سخت دستاویزی شرط عائد کرنا قانونی طور پر قابلِ قبول نہیں۔

bhatkal-forest-dwellers-protest-3

انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ منظوری کی کارروائی میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرنے کے سبب ریاست بھر میں 88.90 فیصد اور بھٹکل میں 83.50 فیصد دعوے مسترد کیے گئے ہیں، جو نہایت تشویش ناک ہے۔

بعد ازاں اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے رویندرا نائک نے بتایا کہ جنگلاتی باشندوں میں قانونی آگاہی پیدا کرنے کے لیے ضلع کی 132 گرام پنچایت حدود میں بیداری پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ مہم جنگلاتی باشندوں کو اُن کے حقوق کے متعلق ضروری معلومات فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیداری مہم کے حصہ کے طور پر تین لاکھ پمفلٹ تقسیم کیے جائیں گے جن میں جنگلاتی زمینوں کے حقوق کے لیے نَو اہم دستاویزات کی فہرست اور یہ وضاحت بھی شامل ہوگی کہ مخصوص پرانی دستاویزات کا مطالبہ قانوناً درست نہیں۔

تحصیلدار کو میمورنڈم پیش کرنے سے قبل ضلع کنوینر پانڈورنگ نائک نے استقبالیہ اور تمہیدی خطاب کیا، جبکہ آخر میں دیوراج گونڈا نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر ابراہیم گودلّی، رفیق، نوین جین، ایشور نائک ہاڈولّی، چندرا نائک بائروڑے، رتنا نائک، راگھویندرا مراٹھی، وِملا موگیر، کویتا منجوناتھ گونڈا، ناگمّا موگیر، دتا نائک ہسولّی، صابر، محی الدین، نطہر اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔

bhatkal-forest-dwellers-protest-2

Share: