ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی میں آلودگی کے سبب 50 فیصد ورک فرام ہوم لازمی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی

دہلی میں آلودگی کے سبب 50 فیصد ورک فرام ہوم لازمی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی

Wed, 17 Dec 2025 17:13:16    S O News

نئی دہلی، 17/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی میں فضائی آلودگی کی تشویشناک صورتِ حال کے درمیان ریکھا گپتا حکومت نے 50 فیصد ورک فرام ہوم کے نظام کو سختی سے نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں نصف افرادی قوت گھر سے کام کرے گی اور اس حکم پر 100 فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

کپل مشرا نے کہا کہ دہلی کے تمام محکموں اور اداروں میں 50 فیصد ورک فرام ہوم پہلے ہی نافذ ہے مگر اب اس پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی دفتر یا ادارے میں اس ضابطے کی خلاف ورزی پائی گئی تو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ وزیر کے مطابق یہ اقدام شہریوں کی صحت کے تحفظ اور آلودگی کے اثرات کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

وزیر نے یہ بھی بتایا کہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) اور محکمۂ ماحولیات کی ہدایات کے مطابق یہ پابندیاں لاگو کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق صرف ضروری خدمات جیسے ہیلتھ کیئر، اسپتال، فائر ڈپارٹمنٹ، جیل اور عوامی ٹرانسپورٹ کو مکمل ورک فورس کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ دیگر تمام اداروں پر 50 فیصد حاضری کا اصول لاگو رہے گا۔

کپل مشرا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی میں اس وقت گریپ-4 نافذ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گریپ-3 کے دوران 16 دن تک تعمیراتی سرگرمیاں بند رہیں اور رجسٹرڈ مزدوروں کو حکومت کی جانب سے مالی امداد فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق دہلی حکومت رجسٹرڈ مزدوروں کے کھاتوں میں براہِ راست 10 ہزار روپے منتقل کرے گی اور گریپ-4 کے خاتمے کے بعد بھی اسی طرز پر امداد دی جائے گی۔

ادھر بڑھتی آلودگی کے مسئلے پر عام آدمی پارٹی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر کپل مشرا نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال ہر سال ایک مہینے کی چھٹی پر کیوں چلے جاتے تھے؟ انہوں نے مزید کہا کہ آج جب ایک خاتون وزیر اعلیٰ مسلسل کام کر رہی ہیں تو ان کے خلاف بدسلوکی کی جا رہی ہے، جسے دہلی اور پنجاب کی عوام دیکھ رہی ہے اور مناسب جواب دے گی۔


Share: