ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر احتجاج معاملہ: سورو داس اور آشوتوش رانکا نے دہلی ہائی کورٹ سے عرضی واپس لے لی

جنتر منتر احتجاج معاملہ: سورو داس اور آشوتوش رانکا نے دہلی ہائی کورٹ سے عرضی واپس لے لی

Wed, 21 Oct 2026 17:25:54    S O News
cjp saurav  ashutosh

نئی دہلی ، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )سی جے پی کے کارکنان سوروداس اور آشوتوش رانکا کو گزشتہ دنوں جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کے سلسلے میں گرفتار کرکے ۵؍ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ جس کے بعد بھی عدالت نےانہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیاہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سی جے پی کارکنان نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی لیکن ہائی کورٹ کی جانب سے بھی اس درخواست کو واپس لینے اور وہی عدالت میں اس پر نظر ثانی کی ہدایت دی ہے۔ فی الحال کارکنان نے اس درخواست کو واپس لے لیا ہے۔

کا کروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) کے کارکنان سورو داس اور آشوتوش رانکا نے بدھ کو دہلی ہائی کورٹ سے وہ درخواست واپس لے لی جو اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں انہیں ۲۱؍ اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ جسٹس سبرامنیم پرساد نے تجویز پیش کی کہ دونوں کارکن فی الحال اپنی درخواست واپس لے لیں، کیونکہ ایس ای ایم کورٹ دوپہر ۲؍ بجے اس معاملے پر دوبارہ غور کر رہی تھی۔ سورو داس اور آشوتوش رانکا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل ابھیشیک چمنی نے اس تجویز پر اتفاق کیا۔

سماعت کے آغاز میں جسٹس پرساد نے دونوں کارکنان کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک ایسا معاملہ ہے جہاں ایک احتیاطی نوٹس کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے اور جب آپ کو دوسرا احتیاطی نوٹس دیا جاتا ہے، ایک شخص وہاں جاتا ہے، بانڈ دیتا ہےاور پھر بانڈ توڑ دیتا ہے، یہ درست ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ ہم بعد میں دیکھیں گے، ایسے معاملے میں ضمانت پر اصرار کرنا، کیا اسے اتنا غیر قانونی یا قانون کے خلاف کہا جا سکتاہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جب آپ جا کر بیریگیڈ توڑتے ہیں تو بی این ایس ایس کی دفعہ ۱۶۳؍ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید ۱۰؍ یا ۲۰؍ لوگوں کے شامل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کے گروہ میں شامل نہیں ہوں گے لیکن وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک سے باہر کیا ہو رہا ہے، جیسے آتش زنی وغیرہ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے کسی ایسی چیز سے شروعات کی ہو جسے آپ پرامن کہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے آپ پولیس کی اجازت لیتے ہیں تاکہ ان ناپسندیدہ افراد کو روکا جا سکے جو آپ کے گروہ میں شامل ہو کر آپ کا نام خراب کر سکتے ہیں۔‘‘ عدالت نے انہیں مشورہ دیا کہ ہائی کورٹ آنے سے پہلے انہیں ریویزنل کورٹ (نظرثانی عدالت) سے رجوع کرنا چاہئے ۔‘‘

عدالت نے کہا ،’’آپ وہ شخص ہیں جس نے درحقیقت بانڈ توڑا ہے، آپ کا اصل قانونی چارہ کار نظرثانی میں پنہاں ہے۔ قابلِ سماعت ہونے اور تفریح کے قابل ہونے میں فرق ہوتا ہے۔ یہ قابلِ سماعت ہے۔ میں یہاں سے دو کلومیٹر دور اور وہاں سے دو کلومیٹر دور (دائرہ اختیار والی عدالت) میں کوئی فرق نہیں دیکھتا۔ اگر یہ نظرثانی کے لائق حکم ہے تو دفعہ ۲۲۶؍ کے تحت یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘

عدالت نے مزید کہا،’’جب یہ معاملہ آج ہی آرہا ہے تو یہاں کیوں دوڑے چلے آئے؟ اس کے علاوہ، اگر یہ نظرثانی کے لائق حکم ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ آپ اس پٹیشن کو واپس لے لیں، دو بجے ایس ای ایم کورٹ کے سامنے دیکھیں کہ کیا ہوتا ہےاور پھر قانون کے مطابق اپنے اگلے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں ،ابھی بحث کرنے کے بجائے، کیوں نہ آپ نظرثانی عدالت کیلئے اپنی تیاری پوری رکھیں اور پھر اس عدالت میں آئیں؟ فرض کریں کہ شام ۴؍ بجے حالات آپ کے حق میں ہو جاتے ہیں تو بات ہی ختم ہو گئی۔ اگر حالات آپ کے حق میں نہیں ہوتے ہیں تو آپ نظرثانی عدالت اور پھر اس عدالت میں جا سکتے ہیں۔‘‘ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا سورو داس اور آشوتوش رانکا جین زی سے تعلق رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ ،’’’’لوگ وہی رہتے ہیں، بس وجوہات بدل جاتی ہیں، ہے نا؟ اگلا سوال یہ ہوگا کہ آپ کون ہیں؟ آپ کیا ہیں؟ آپ کی تنظیم کیا ہے اور آپ کی تنظیم کا مقصد کیا ہے؟ براہ کرم سمجھیں کہ جب امن و امان کے خراب ہونے کا خدشہ ہو تو یہ تمام سوالات اہمیت اختیار کر لیتے ہیں... آپ عدالت کو ایسے مباحثے میں گھسیٹ رہے ہیں جو بالآخر آپ کے حق میں نہیں جا سکتا۔‘‘

بعد ازاں ایڈوکیٹ چمنی نے اصرار کیا کہ ۱۹؍اکتوبر کا حکم بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ ایس ای ایم کورٹ کو حراست میں توسیع دینے کا دائرہ اختیار ہی حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے ایس ای ایم کا حکم پڑھتے ہوئے کہا کہ اس میں داس کے والدین کے نام اور تفصیلات میں تصویر کی مماثلت نہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی، ’’حکم میں کہا گیا ہے کہ کوئی اور ضامن موجود نہیں ہے۔ وہاں دو ضامن موجود تھے، لیکن ایس ای ایم عدالت نے انہیں بلایا تک نہیں۔‘‘اس کے بعد عدالت نے مختصر وقفہ لیا تاکہ وکلاء اس بات پر غور کر سکیں کہ آیا وہ پٹیشن واپس لینا چاہتے ہیں یا راحت کیلئے زور دینا چاہیں گے۔

واضح رہے کہ دہلی پولیس نے ۱۳؍ اکتوبر کو سورو داس اور آشوتوش رانکا کو اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب انہوں نے مبینہ طور پر جنتر منتر پر بیریگیڈزپر چڑھ کر وہاں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔۱۴؍ اکتوبر کو انہیں پانچ دن کیلئے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔ ۱۹؍ اکتوبر کو ان کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی۔ ۱۹؍اکتوبر کے اپنے حکم میں ایس ای ایم کورٹ نے کہا تھا کہ سورو داس اور آشوتوش رانکا کا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہیں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے اور اس بات کے شدید خدشات ہیں کہ وہ امن و امان کو خراب کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ان کی یہ یقین دہانی کہ وہ اس حرکت کو نہیں دہرائیں گے، ان کے پچھلے اقدامات کی روشنی میں قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ڈی نوٹیفائیڈ مقامات پر احتجاج کی کال دے کر اپنی عادت کا ثبوت دیا ہے۔

مزید برآں، ایس ای ایم نے رانکا اور داس کے پیش کردہ ضامنوں کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک ضامن کے بانڈ پر موجود تصویر اور اس کے آدھار کارڈ میں مطابقت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ ضامن ایک اور درست شناختی دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہا اور اس نے غیر تسلی بخش جوابات دئیے۔ دوسرا ضامن سورو داس کی بنیادی تفصیلات بھی فراہم نہیں کر سکا۔ عدالت نے یہ بھی پایا کہ دونوں میں سے کوئی بھی ضامن عدالت کے سامنے ملزمان کی موجودگی کی ضمانت نہیں دے سکتا تھا۔ تاہم داس اور آشوتوش رانکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بار بار ضمانتیں پیش کرنے کے باوجود وہ چھ دن سے حراست میں ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ مجسٹریٹ نے بی این ایس ایس کی دفعہ ۱۳۵؍ (۳)کے تحت غلط طریقے سے ان کی عدالتی حراست میں توسیع کی، اس بنیاد پر کہ وہ مطلوبہ بانڈ پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں، حالانکہ ان کے ضامن قانون کے مطابق پیش کئے جا چکے تھے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایس ای ایم کا حکم بغیر کسی آزادانہ جائزے کے مشینی انداز میں پولیس کی درخواست پر مبنی ہے۔ مزید برآں، ان کا کہنا ہے کہ ڈی نوٹیفائیڈ مقام پر احتجاج زیادہ سے زیادہ ضابطے کا معاملہ ہو سکتا ہے، نہ کہ امن و امان کیلئے کوئی خطرہ۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے، ’’درخواست گزاروں کی آزادی پر پابندی جو امن و امان کے خلل کے خدشے پر مبنی ہے، اسے آئین کی دفعہ ۱۹؍ (۳) کے امتحان پر پورا اترنا چاہئے۔‘‘ضمانت کے معاملے پر انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے ۲۰۱۸ء کے ایک فیصلے (الدانیش رین بمقابلہ اسٹیٹ آف این سی ٹی دہلی) کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ ضامنوں کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے تک کسی بھی شخص کو ذاتی بانڈ پر رہا کر دینا چاہئے ۔ درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مجسٹریٹ نے اس بنیاد پر ان کے ضامنوں کو مسترد کر دیا کہ وہ عدالت میں ملزمان کی پیشی کی ضمانت نہیں دے سکتے تھے اور اپنے والدین کے نام یاد نہیں رکھ سکتے تھے۔

علاوہ ازیں سی جے پی کے کارکنان کا اصرار ہے کہ بی این ایس ایس کی دفعہ۱۴۰؍ صرف اسی صورت میں ضامن کو مسترد کرنے کی اجازت دیتی ہے جب وہ شخص بانڈ کیلئے غیر موزوں پایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ مجسٹریٹ دفعہ۱۳۰؍ کے تحت ضمانتوں کی تعداد، بانڈ کی رقم اور اس کی مدت کو واضح کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سورو داس اور آشوتوش رانکا کی جانب سے ایڈوکیٹ ابھیشیک چمنی اور پرنجل ابرول پیش ہوئے۔ جبکہ دہلی پولیس کی نمائندگی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما اور سنٹرل گورنمنٹ اسٹینڈنگ کونسل (سی جی ایس سی) کے وکیل آشیش دکشیت نے کی۔


Share: