ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شیو سینا کی دسہرہ ریلیوں میں سیاسی حملے تیز، ادھو ٹھاکرے کی مودی اور شاہ پر تنقید، شندے کا کسانوں سے یکجہتی کا اعلان

شیو سینا کی دسہرہ ریلیوں میں سیاسی حملے تیز، ادھو ٹھاکرے کی مودی اور شاہ پر تنقید، شندے کا کسانوں سے یکجہتی کا اعلان

Wed, 21 Oct 2026 12:21:16    S O News

ممبئی ، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ۲۰۲۲ء میں تقسیم ہونے کے بعد سے ہر سال شیو سینا کی روایتی دسہرہ ریلی ۲؍ الگ الگ مقامات پر ادھو گروپ اور شندے گروپ کی جانب سے منعقد کی جارہی ہے۔ اس سال بھی ۶۱؍ ویں تاریخی دسہرہ ریلی ۲؍ الگ الگ مقامات پر منعقدکی گئی ۔ امسال شیو سینا (ادھو) کی جانب سے دسہرہ ریلی سابقہ روایت کے مطابق دادر میں واقع شیواجی پارک میں منعقد کی گئی ۔

اس موقع پرپارٹی کارکنوں کے بڑے مجمع سےخطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے اپنے والد بالا صاحب ٹھاکرے کے انداز میں دسہرہ ریلی سے خطاب کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’پیپر لیک اور ووٹ چوری کے خلاف مظاہرہ کرنے والے اور ترنگا ریلی نکالنے والوں پر ظلم کرنے والے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس میں اگر ہمت ہے وہ سابر متی جیل جائیں اور ممبئی میں فائرنگ کرنے والے بشنوئی کو گھسیٹ کر یہاں لائیں۔ اپنی تقریر میں انہوں نے جین زی پر ہونے والے مظالم ،نیٹ پیپر لیک کے مظاہرین اور گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کے تشدد پر شدید تنقیدکی۔ انہوں نے مہاراشٹر حکومت کے ذریعے ریاست کو نکسل واد کا گڑھ کہنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔

اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا کہ مودی کہتے ہیں کہ اب دیش بدل رہا ہے تو یقیناًملک بدل رہا ہے اور مودی اور شاہ کو اقتدار سے ہٹا کر اچھے دن ضرورآئیں گے ۔ ادھو ٹھاکرے نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اپریل تک بی جےپی حکومت باقی نہیں رہے گی۔انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ ہم سب کو عہد کرنا ہوگا کہ ہم اچھے دن لائیں گے ۔ جلسہ کے اختتام پر ’ووٹ چور راون ‘کا دہن بھی کیا گیا۔

اس سے قبل ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ’’ مہاراشٹر حکومت نے ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ مہاراشٹر نکسل وادکا مرکز بن گیا ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ فرنویس جی ، اگر ذرا بھی ہمت ہوتو توجاؤ سابر متی جیل اور بشنوئی کو گھسیٹ کر لاؤ تب ہم سے بات کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ سادھو سنت اورمختلف ماہرین یہاں گزرے ہیں لیکن اس سرزمین کو نکسلواد کا گڑھ قرار دیا جارہا ہے۔‘‘

ادھو ٹھاکرے نے ترنگا ریلی نکالنے والوں کے خلاف کارروائی پر کہا کہ ’’مَیں آر ایس ایس سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آج بھی انہیں ترنگے سے بیر ہے؟

منگل کی شب شیوسینا(شندے) کی دسہرہ ریلی میں پارٹی سربراہ اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے حسب معمول موجودہ اور ماضی کے اپنے کام گنوا کر اپنی ہی پیٹھ تھپتھپائی، وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے گیت گائے اور اپوزیشن پارٹیوں کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا، البتہ اس مرتبہ صرف یہ فرق رہا کہ اس ریلی کو انہوں نے قحط سے متاثرہ کسانوں کے نام کیا اور اپنے پارٹی ورکروں کو کسانوں کی مدد کرنے کی ہدایت دی۔

اپنی تقریر کی ابتداء انہوں نے اس طرح کی کہ شیوسینا کو ۶۰؍ سال ہوگئے، دسہرہ ریلی کی روایت کو ہم قائم رکھے ہوئے ہیں لیکن آج ہمارے پیارے کسان بحران کے شکار ہیں۔ مہاراشٹر قحط سالی کی زد پر ہے، ان حالات کے پیش نظر انہوں نے قحط زدہ علاقوں میں موجود اپنی پارٹی کے عہدیداروں اور رضاکاروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں میں ٹھہر کر کسانوں کی مدد کریں۔

ان کے مطابق پچھلے سال ساری فصل زیادہ بارش کی نظر ہوکر بہہ گئی تھی، اس وقت بھی شیوسینک کسانوں کے پیچھے کھڑے تھے۔ اس وقت بھی انہوں نے متاثرہ علاقوں کے شیوسینکوں کو دسہرہ ریلی میں شامل ہونے سے روک دیا تھا اور ان کی مدد کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات اور سیاست کا نہیں بلکہ دوڑ کر کسانوں کی مدد کیلئے جانے کا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منگل کی صبح ہی قحط زدہ علاقوں کے کسانوں کی امداد کیلئے ۱۰۰؍ ٹرک روانہ کردیئے گئے ہیں۔اس کے بعد دوسری اور تیسری مرتبہ بھی امداد روانہ کی جائے گی۔ہماری بھرپور کوشش ہے کہ کسانوں کی دیوالی کالی نہیں ہونے دی جائے گی۔

تقریر کے دوران کسانوں کی بات سے اچانک وہ اپوزیشن پر آگئے کہ ان کا ایک بھی دن انہیں گالی دیئے بغیر نہیں گزرتا۔ انہوں نے کہا کہ گالیوں اور الزامات کے جواب وہ الزامات سے نہیں بلکہ اپنے کام سے دیں گے۔انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ کسانوں کو کس طرح کی اور کتنی مدد دی جارہی ہے۔

ایکناتھ شندے نے کہا کہ دہلی میں انہوں نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی تھی جہاں ان دونوں نے مہاراشٹر کے کسانوں کی مدد کا وعدہ کیا ہے۔ اس دورن راہل گاندھی کو ’پپو‘ کہہ انہوں نے تنقیدیں کیں۔


Share: