بھٹکل، 12 جنوری (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹکا میں سیاحتی صنعت کو فروغ دینے اور خطے کی معاشی ترقی کو نئی رفتار دینے کے مقصد سے مینگلور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں، جن میں تین ساحلی اضلاع کے دس جزیروں میں ٹورزم ڈیولپ کرنے کا فیصلہ نمایاں ہے۔ اس بات کی جانکاری ریاستی وزیر برائے بندرگاہ، ماہی گیری اور اندرونی آبی نقل و حمل منکال وئیدیا نے دی۔
بھٹکل میں پریس کانفرنس کے دوران ساحل آن لائن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے منکال وئیدیا نے بتایا کہ دکشن کنڑا، اُڈپی اور اُترکنڑا اضلاع میں مجموعی طور پر 106 جزیرے موجود ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں ان میں سے 20 جزیروں کو سیاحتی مقاصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جن پر تفصیلی فزیبلیٹی اسٹڈی کرائی گئی۔ اس اسٹڈی کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ دس جزیرے ایسے ہیں جہاں ٹورزم ڈیولپمنٹ کے وسیع امکانات موجود ہیں، چنانچہ انہی دس جزیروں میں سیاحت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مینگلور اجلاس میں ساحلی کرناٹکا کو درپیش ایک اہم مسئلے، یعنی کوسٹل ریگولیٹری زون (CRZ) کی پیچیدگیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ منکال وئیدیا کے مطابق ماضی میں سی آر زیڈ کے نقشوں کی منظوری کے لیے نہ ضلع سطح پر اور نہ ہی ریاستی سطح پر کوئی مستند ادارہ موجود تھا، جبکہ چنئی، گوا، حیدرآباد اور دیگر ریاستوں میں ایسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ اب ریاست کرناٹکا میں بھی سی آر زیڈ سے متعلق ادارہ قائم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ساحلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو منظوری دلانا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔
ریاستی وزیر نے کہا کہ ساحلی کرناٹکا میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹورزم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد یا اداروں کو بینک لون، سبسڈی، بجلی، پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات سمیت تمام ضروری مدد فراہم کی جائے گی، تاکہ ساحلی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور مقامی معیشت مضبوط ہو۔
واضح رہے کہ گوا سے متصل اُترکنڑا سے لے کر دکشن کنڑا تک کرناٹکا کا ساحلی علاقہ، جو بحرِ عرب کے کنارے تقریباً 300 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، قدرتی حسن، قدیم ساحلوں، جزیروں اور ثقافتی ورثے سے مالا مال ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر گوا سیاحت کے لیے بے حد مشہور ہے، مگر اس کے متصل ساحلی کرناٹکا کو اب تک وہ مقام حاصل نہیں ہو سکا جس کا وہ حق دار ہے۔
اسی پس منظر میں سنیچر، 10 جنوری کو مینگلور میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں ساحلی کرناٹکا کو ایک بڑے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سدرامیا، نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، کانگریس کے علاوہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمان نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ساحلی اضلاع میں سیاحت کو فروغ دے کر نہ صرف ریاستی معیشت کو مضبوط بنایا جائے بلکہ کرناٹکا کو گوا کے متبادل ایک اہم سیاحتی مقام کے طور پر اُبھارا جائے۔