نئی دہلی، 9 ستمبر (ایس او نیوز): این ڈی اے کے امیدوار اور مہاراشٹرا کے گورنر سی پی رادھا کرشنن پیر کو بھارت کے 15ویں نائب صدر منتخب ہوگئے۔ انہوں نے اپوزیشن انڈیا بلاک کے امیدوار اور سابق سپریم کورٹ جج بی سدرشن ریڈی کو 152 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
راجیہ سبھا کے سکریٹری اور ریٹرننگ آفیسر پی سی مودی نے نتیجے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رادھا کرشنن کو 452 ووٹ ملے، جب کہ ان کے مد مقابل کو 300 ووٹ حاصل ہوئے۔
ووٹنگ کی تفصیلات:
نائب صدر کے انتخاب کے لیے کل 781 اراکین پارلیمنٹ ووٹ دینے کے اہل تھے، جن میں سے 767 نے ووٹ ڈالے، یعنی ووٹنگ کی شرح 98.2 فیصد رہی۔ ان میں سے 15 ووٹ ناقابلِ قبول قرار دیے گئے اور 752 ووٹ درست شمار ہوئے۔ علاوہ ازیں 13 اراکین نے ووٹنگ سے گریز کیا، جن میں بی جے ڈی، بی آر ایس، ایس اے ڈی اور ایک آزاد رکن شامل تھے۔
انتخابی عمل اور مہم
اس انتخاب کے لیے نوٹس 7 اگست کو جاری کیا گیا تھا، اور کل 68 نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں۔ جانچ پڑتال کے بعد صرف رادھا کرشنن اور سدرشن ریڈی کے نام درست پائے گئے۔ ووٹنگ پیر کو صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک پارلیمنٹ میں ہوئی اور گنتی کے بعد شام میں نتیجے کا اعلان کیا گیا۔
سیاسی اہمیت:
رادھا کرشنن کی یہ کامیابی این ڈی اے کے پارلیمنٹ پر تسلط کو ایک بار پھر واضح کرتی ہے۔ انتخابی عمل میں اپوزیشن بلاک کے اندرونی اختلافات اور کچھ حلقوں میں کراس ووٹنگ بھی سامنے آئی۔ اگرچہ اپوزیشن امیدوار کو متوقع ووٹ ملے، مگر وہ اکثریت کا فرق کم نہ کر سکے۔
اس انتخاب کے ذریعے رادھا کرشنن نے نائب صدر کے عہدے پر جگدیپ دھنکھڑ کی جگہ لی ہے، جنہوں نے گزشتہ ماہ صحت کی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا تھا۔