ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’’قومی مفاد کے خلاف‘‘ : کانگریس رکن پارلیمان گوگوئی نے ہند-پاک ایشیا کپ میچ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا

’’قومی مفاد کے خلاف‘‘ : کانگریس رکن پارلیمان گوگوئی نے ہند-پاک ایشیا کپ میچ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا

Mon, 25 Aug 2025 19:16:41    S O News

نئی دہلی، 25 /اگست  (ایس او نیوز / ایجنسی): کانگریس کے رکن پارلیمان گورو گوگوئی نے بی سی سی آئی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ کرکٹ میچ اس وقت تک نہ کرایا جائے جب تک حالات سازگار اور قومی مفاد کے مطابق نہ ہوں۔ ایشیا کپ 2025 کا یہ گروپ میچ 14 ستمبر کو دبئی میں کھیلا جانا طے ہے۔

گورو گوگوئی نے اپنے خط میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آئے دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ’’قومی مفاد کے منافی‘‘ ہے۔ بی سی سی آئی کے سکریٹری دیوجیت سائقیا کو لکھے گئے خط میں گوگوئی نے کہا کہ ’’کرکٹ بلاشبہ خوشی دینے والا کھیل ہے، لیکن موجودہ دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں اس طرح کی مصروفیات کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’سرحد پار کشیدگیاں اب بھی برقرار ہیں اور ہم سب اپنی مسلح افواج کی قربانیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان کے ساتھ دو طرفہ کرکٹ کھیلنا قومی مفاد کے برعکس نظر آتا ہے۔‘‘ انہوں نے بی سی سی آئی سے اپیل کی کہ وہ واضح موقف اختیار کرے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات اُس وقت تک معطل رکھے جب تک حالات بہتر اور قومی مفاد کے مطابق نہ ہو جائیں۔ اس سے قبل 14 اگست کو بھی انہوں نے آسام کے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے قریبی تعلقات کے ذریعے بی سی سی آئی پر دباؤ ڈالیں تاکہ میچ منسوخ کیا جا سکے۔

اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں نے بھی اس میچ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ جس طرح پاکستان نے ہندوستان میں ہونے والے ہاکی ایشیا کپ سے انکار کیا، بی سی سی آئی کو بھی ایسا ہی قدم اٹھانا چاہئے۔ ان رہنماؤں نے زور دیا کہ بورڈ کو صرف مالی مفادات پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ عوام کے جذبات کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ گوگوئی نے مزید کہا کہ ہندوستان نے مختلف ممالک میں وفود بھیجے ہیں تاکہ پہلگام حملے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔

اپنے خط میں گوگوئی نے وزیر اعظم کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’پانی اور خون ساتھ ساتھ نہیں بہہ سکتے‘‘۔ یہ بیان اس وقت دیا گیا تھا جب ہندوستان نے اپریل کے حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ گوگوئی کے مطابق، ایسے موقع پر پاکستان سے کرکٹ روابط بحال کرنے کا مطلب یہ پیغام دینا ہوگا کہ ہندوستان اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے، جو عوامی جذبات کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں کرکٹ تعلقات دوبارہ شروع کرنا قومی سلامتی اور سفارت کاری کے حوالے سے موجودہ سنگین خدشات کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کا رویہ بین الاقوامی فورمز اور دو طرفہ تعلقات میں اتحاد، قوت اور خودمختاری کے احترام پر مبنی ہونا چاہئے۔


Share: