نئی دہلی، 5 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) سپریم کورٹ کی جانب سے راہل گاندھی کو چین سے متعلق بیان پر سرزنش کے بعد بھی کانگریس نے مودی حکومت پر سرحدی ناکامیوں اور چین سے نرمی برتنے کا الزام دہراتے ہوئے سخت رویہ اختیار کیا ہےاور ایک بار پھر گلوان واقعہ پر مرکز کی بی جے پی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ کانگریس نے کہا کہ 2020 کے گلوان واقعہ کے بعد سے ہر محب وطن چین معاملہ پر جواب طلب کر رہا ہے، لیکن مودی حکومت نے ’ڈی ڈی ایل جے‘ پالیسی کے ذریعے سچائی کو چھپانے کی کوش کی ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کی ’ڈی ڈی ایل جے‘ والی پالیسی کا مطلب ڈینائل (انکار کرنا)، ڈِسٹرکیٹ (توجہ ہٹانا)، لائی (جھوٹ بولنا) اور جسٹیفائی (درست قرار دینا) ہے۔جے رام رمیش نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت 1962 کے بعد سے ہندوستان کو ملے سب سے بڑے علاقائی جھٹکے کے لیے ذمہ دار ہے۔ ساتھ ہی بزدلی اور غلط اقتصادی ترجیحات کی وجہ سے چین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ مودی حکومت سے سخت اور تیکھے سوالات کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ 19 جون 2020 کو، یعنی گلوان میں ہمارے فوجیوں کی شہادت کے محض 4 روز بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کیوں کہا کہ ’’نہ کوئی ہماری سرحد میں گھساہے اور نہ پہلے سے کوئی اندر موجودہے؟‘‘ کیا یہ چین کو دی گئی کلین چِٹ نہیں تھی؟
آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ ’’ہم اپریل 2020 کے جمود پر لوٹنا چاہتے ہیں۔‘‘ کیا 21 اکتوبر 2024 کا واپسی معاہدہ ہمیں واقعی اسی جمود پر لے جاتا ہے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ آج ہندوستانی گشتوں کو ڈیپسانگ، ڈیمچوک اور چومار میں اپنے ہی پٹرولنگ پوائنٹ تک جانے کے لیے اب چینی رضامندی کی ضرورت پڑتی ہے، جبکہ پہلے وہ ہندوستان کے علاقائی حقوق کا آزادانہ طور پر استعمال کرتے تھے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ گلوان، ہاٹ اسپرنگ اور پینگونگ جھل کے علاقوں میں ہندوستانی گشتوں کو ان علاقوں تک پہنچنے سے بفر زون کے سبب روکا جا رہا ہے۔ جبکہ یہ بفر زون ہندوستان کی دعویٰ لائن کے اندر واقع ہے؟
کیا 2020 میں بڑے پیمانے پر یہ رپورٹ نہیں کیا گیا تھا کہ مشرقی لداخ کا تقریباً 1000 مربع کلو میٹر کا علاقہ چینی کنٹرول میں آ گیا ہے، جس میں ڈیپسانگ کا 900 مربع کلومیٹر علاقہ بھی شامل ہے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ لیہہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کی سالانہ کانفرنس میں ایک پیپر پڑھا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان نے شمالی لداخ کے 65 میں سے 26 پٹرولنگ پوئنٹ تک اپنی رسائی کھو دی ہے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ چین سے درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور سے الیکٹرانکس، بیٹری اور سولار سیل جیسے شعبوں میں؟ ہندوستان کا ٹیلی کام، فارما اور الیکٹرانکس سیکٹر چینی درآمدات پر بہت زیادہ منحصر ہو گیا ہے؟ کیا یہ بھی سچ نہیں ہے کہ 25-2024 میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ کا ریکارڈ 99.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا؟
کیا یہ سچ نہیں ہے کہ مودی حکومت آج ایک ایسے ملک کے ساتھ رشتے کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے، جس نے ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کو جی-10سی لڑاکو طیارہ اور ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے پی ایل-15 میزائل جیسے ہتھیار فراہم کیے اور جیسا کہ 4 جولائی 2025 کو ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی فوجی کارروائیوں پر ’لائیو اِن پٹ‘ بھی فراہم کرایا۔