ترواننت پورم 17جنوری (ایس او نیوز):کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شہریت قانون، نیا وقف قانون اور دیگر پالیسیوں کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور انہیں سماج کے مرکزی دھارے سے الگ کیا جا رہا ہے۔
وہ کیرالہ مسلم جماعت کے زیرِ اہتمام یکم جنوری کو کاسرگوڈ سے شروع ہو کر ریاست بھر کا دورہ کرتے ہوئے ترواننت پورم میں اختتام پذیر ہونے والی ’کیرالہ یاترا‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کی قیادت معروف عالمِ دین کانتھاپورم اے پی ابو بکر مسلیار نے کی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی قسم کے فرقہ پرستانہ نظریات کے تئیں نرم رویہ یا مفاہمتی حکمتِ عملی اختیار کرنا نہایت خطرناک ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کیرالہ ماضی میں شدید فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کا مشاہدہ کر چکا ہے، تاہم فرقہ پرستی کے خلاف ایل ڈی ایف کی سخت اور غیر مصالحتی پالیسی کے باعث ایسے حالات پر قابو پایا جا سکا۔
پِنرائی وجین نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتی برادریوں کے مذہبی مقامات پر ملک بھر میں حملے ہو رہے ہیں، جس سے ملک میں سیکولرازم، جمہوریت اور آئینی اقدار کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اکثریتی فرقہ پرستی کا مقابلہ اقلیتی فرقہ پرستی سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں، بلکہ اس کا واحد حل سیکولرازم کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مذہب، ذات، نسل اور زبان کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف بیداری پیدا کریں۔ وزیر اعلیٰ نے ’کیرالہ یاترا‘ کو صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایسے دور میں جب مذہب اور نسل کے نام پر سماج کو تقسیم کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں، اس نوعیت کی مہمات فرقہ پرستی کے خلاف ایک مضبوط دفاع ثابت ہو سکتی ہیں۔