کوزیکوڈ، 2 / ستمبر (ایس او نیوز) کیرالہ میں دماغ کو متاثر کرنے امیبائی انفیکشن 'میننگو اینسیفلائٹس' نامی مرض کی وجہ سے امسال موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد تین ہوگئی جبکہ دماغ کو کھا جانے والے اس مرض سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 42 تک پہنچ گئی ہے ۔
دو دن پہلے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہاسپٹل کوزیکوڈ میں فوت ہونے والے دو مریضوں میں ایک تین مہینے کا شیر خوار بچہ بھی ہے جو گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے اس مرض کے لئے زیر علاج تھا ۔ امیبا سے ہونے والا یہ انفیکشن گندے اور کثافتوں سے آلودہ پانی کے ذریعے پھیلتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ فوت ہونے والے اس بچے کو گھر میں استعمال ہونے والے کنویں کے آلودہ پانی کی وجہ سے یہ مرض لاحق ہوا تھا ۔
دوسرا کیس رملہ نامی 52 سالہ خاتون کا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 8 جولائی سے زیر علاج تھی جسے بعد میں میڈیکل کالج ہاسپٹل کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا ۔ 26 اگست کے بعد اس کی طبعیت مزید بگڑ گئی اور اتوار کے دن اس نے بھی دم توڑ دیا ۔ خیال رہے کہ امسال دماغ کو متاثر کرنے والے اس امیبائی انفیکشن کی وجہ سے موت واقع ہونے کا معاملہ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں 14 اگست کو پیش آیا تھا جس میں 9 سالہ لڑکی کی جان چلی گئی تھی ۔
پروٹوزوا کی زمرے والا یہ امیبا گندے پانی میں پلتا ہے اور نہانے یا تیرنے کے دوران ناک کے راستے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ وہاں سے کھوپڑی میں پہنچتا ہے اور پھر دماغ کے اندر پہنچ کر اس کے اعصاب اور خلیوں کو کھانا شروع کرتا ہے ۔ خاص کر آلودہ پانی والی جھیلوں، تالابوں اور نہروں میں اس پروٹوزا کے موجود ہونے اور وہاں تیرنے، غوطے لگانے یا نہانے سے اس قسم کا انفیکشن لاحق ہونے کی گنجائش رہتی ہے ۔
ایک مرتبہ جب ناک کے نتھنوں کی سطح سے ہو کر جب یہ دماغ کی طرف بڑھنے لگتا ہے تو پانچ تا دس دنوں کے اندر تیز بخار، شدید سر درد، متلی اور قئے جیسی میننجائٹس اور اینسیفلائٹس مرض کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں ۔
اس مرض کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں سے ایک پرائمری امیبک میننگو اینسیفلائٹس (PAM) اور دوسری گرینولومیٹس امیبک اینسیفلائٹس (GAE) اور اس وقت کیرالہ یہی دوسری قسم کا حملہ ہو رہا ہے ۔ یہ مرض اتنا ہلاکت خیز ہے کہ اس کے لاحق ہونے کے بعد 95% مریضوں کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔
ریاست کیرالہ کے محکمہ صحت نے اس مرض پر قابو پانے کے مقصد سے پانی کی جھیلوں، تالابوں، آبی ذخیروں اور کنووں کے پانی کو کلورین کی آمیزش سے صاف کرنے کی مہم چلائی ہے ۔