سیتامڑھی (بہار): 24 /جنوری (ایس او نیوز)بہار کے ضلع سیتامڑھی میں ایک ایسا دل دہلا دینے والا اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جھجھیہٹ گاؤں کے قریب ایک سڑک حادثے میں 13 سالہ طالب علم ریتیش کمار جان سے ہاتھ دھو بیٹھا، مگر حادثے کے بعد جو منظر سامنے آیا وہ موت سے بھی زیادہ افسوسناک تھا—لوگ معصوم لڑکے کی نعش کو سڑک پر چھوڑ کر مچھلیاں لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق ریتیش کمار حسبِ معمول صبح کے وقت اپنی کوچنگ کلاس جا رہا تھا کہ تیز رفتاری سے آتی ہوئی مچھلیوں سے لدی ایک پک اَپ/منی وین نے اسے ٹکر مار دی۔ ٹکر کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں سڑک پر مچھلیاں بکھر گئیں، جبکہ لڑکا شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
حادثے کے فوراً بعد وہاں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی، مگر افسوسناک طور پر بعض افراد نے نہ تو زخمی بچے کو اسپتال پہنچانے کی کوشش کی اور نہ ہی فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بجائے کئی لوگ سڑک پر بکھری ہوئی مچھلیاں جمع کر کے تھیلوں اور بیگوں میں بھرنے لگے، جبکہ کچھ افراد اس دردناک منظر کی ویڈیو اور فوٹیج بنانے میں مصروف نظر آئے۔
یہ واقعہ 16 جنوری کو پیش آیا تھا، تاہم حادثے کے بعد کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پورے ملک میں اس پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ عوامی حلقوں میں اس واقعے کو انسانیت کی بے حسی اور سماجی زوال کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے، اور لوگ اس غیر انسانی رویے پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پولیس حادثے کی اطلاع ملنے پر جائے وقوع پر پہنچی، بھیڑ کو منتشر کیا اور معصوم لڑکے کی نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس نے حادثے میں ملوث منی لاری/پک اَپ گاڑی کو تحویل میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اس افسوسناک حادثے کے بعد عوام میں غم و غصے کی لہر ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایک خاندان نے اپنا لختِ جگر کھو دیا، تو دوسری طرف کچھ لوگ انسانیت کو پسِ پشت ڈال کر چند مچھلیوں کے لیے نعش کے پاس کھڑے نظر آئے—جو پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔