بھٹکل، 20 نومبر (ایس او نیوز): بھٹکل کی تاریخی سرابی ندی—جو چوتنی سے شاذلی مسجد، غوثیہ اسٹریٹ، مشما اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ اور ڈارنٹا علاقہ سے گزرتی ہوئی ڈونگر پلی سے بندر پہنچ کر بحرِ عرب میں جاکر ملتی ہے، اس ندی کی صفائی کا کام جنوری میں شروع ہوگا اور مارچ تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اس بات کی جانکاری محکمہ آبپاشی کے بینگلورو سے آئے سینئرانجینئرآنند کمار نے اپنے دورۂ بھٹکل کے دوران میونسپل حکام کو دی۔
جمعرات کے روز آنند کمار نے غوثیہ اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ اور ڈارنٹا کے مقامات پر ندی کا تفصیلی معائنہ کیا اور مقامی کونسلروں و عوام سے ملاقات کرکے صفائی منصوبے کے بارے میں ان کی رائے بھی حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے میونسپل حکام، بشمول سابق کونسلر قیصر محتشم فیاض مُلا، الطاف کھروری، میونسپل چیف آفیسر وینکٹیش ناوڈا سمیت سرابی ندی کے اطراف کے مختلف اسپورٹس سینٹروں کے ذمہ داران سے بھی مشاورت کی۔
اس موقع پر انند کمار نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے ندی کو گہرا کرنے، مٹی و کیچڑ نکالنے اور مجموعی صفائی کے لیے دس کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ منصوبے کے مطابق چوتنی کے کُدرے بیرپّا مندر کے قریب سے لے کر ڈونگر پلی تک، یعنی 1.9 کلو میٹر لمبی پٹی میں صفائی کی جائے گی۔ اس دوران ندی کے اندر جمع شدہ مٹی، کیچڑ اور کانٹے دار جھاڑیوں کو مکمل طور پر ہٹایا جائے گا اور ندی کی گہرائی کو تین میٹر تک بڑھایا جائے گا۔ آنند کمار نے یقین دہانی دلائی کہ جنوری میں کام کا آغاز ہوگا اور تین ماہ میں، یعنی مارچ تک پورا پروجیکٹ مکمل کیا جائے گا۔
معائنہ کے دوران قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے صدرعنایت اللہ شاہ بندری، جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، ایڈوکیٹ عمران لنکا، مولوی تیمور گوائی اور متعلقہ علاقوں کے دیگر معززین بھی موجود تھے۔ انجینئر آنند کمار کے ساتھ بینگلورو کے علاوہ کاروار سے آئے سینئر اور جونیئر انجینئر بھی شریک رہے۔

واضح رہے کہ غوثیہ اسٹریٹ میں انڈر گراؤنڈ ڈرینیج (UGD) کا پمپنگ اسٹیشن قائم ہونے کے بعد سے بار بار ندی میں گھٹر کا گندا پانی چھوڑا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی شفاف اور تفریح گاہ کے طور پر مشہور سرابی ندی اب ایک گندے نالے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ماضی میں لوگ یہاں نہانے اور تیرنے آتے تھے، مگر آج ندی کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے۔
ندی کی اس بگڑتی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے مقامی عوام نے اپنے اپنے اسپورٹس سینٹروں بالخصوص کوسموس اسپورٹس سینٹر، سن شائن اسپورٹس سینٹر، مون اسٹار اسپورٹس سینٹر، لائن اسپورٹس سینٹر، رویل اسپورٹس سینٹر اور سلطانی ویلفیئر ایسوسی ایشن—کے ذمہ داران پر مشتمل سرابی ندی ہوراٹا سمیتی تشکیل دی۔ مجلس اصلاح و تنظیم کی سرپرستی میں اس سمیتی نے ندی کی بحالی کے لیے ایک مضبوط مہم چلائی، جس کے تحت چند ماہ قبل احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔
بعد ازاں سمیتی نے بھٹکل کے رکن اسمبلی اور ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا سے ملاقات کرکے ندی کی فوری صفائی کا مطالبہ کیا تھا اور انہیں میمورنڈم بھی پیش کیا تھا، جس کے نتیجے میں وزیر نے ندی کی صفائی کے لیے دس کروڑ روپے منظور کروائے تھے۔