بھٹکل، 17 دسمبر (ایس او نیوز): تربیت ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ انتظام نیو شمس ہائی اسکول کے ہونہار طالب علم عثمان غنی ابن مُقیم ہلّارے نے اسکول کا سب سے باوقار نجم اخوان گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنے خاندان کی اُس روشن روایت کو برقرار رکھا ہے، جس کے تحت ان کی دونوں بہنیں اس سے قبل یہی باوقار اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔
یہ اعزاز اسکول کے سالانہ کلچرل ڈے اور ’’ٹیلنٹ اینڈ ٹرائمف‘‘ (صلاحیتوں اور کامیابیوں کا جشن) پروگرام کے موقع پر دیا گیا، جہاں تعلیمی، کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا۔
نجم اخوان گولڈ میڈل کے انتخابی عمل کے بارے میں اسکول کے پرنسپل لیاقت علی نے بتایا کہ ایس ایس ایل سی کے کل 104 طلبہ میں سے پہلے مرحلے میں 55، پھر 26 اور آخرکار 6 طلبہ کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اس کے بعد تحریری امتحانات، تعلیمی کارکردگی، کھیل کود، اخلاقی و دینی اقدار، سماجی سرگرمیوں اور مجموعی شخصیت کے ہمہ جہتی جائزے کے بعد فائنل مرحلے میں عثمان غنی ہلّارے کو اس باوقار ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل عثمان غنی کی دو بہنیں بھی اس اعزاز سے سرفراز ہو چکی ہیں۔ سال 2018–19 میں رابعہ ملیحہ ہلّارے اور 2022–23 میں مسیرا ہلّارے نے نجم اخوان گولڈ میڈل حاصل کر کے خاندان کا نام روشن کیا تھا۔ اب ان کے بھائی عثمان غنی نے بھی یہ اعزاز حاصل کر کے اس خوبصورت روایت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کے امیرِ حلقہ ڈاکٹر محمد سعد بیلگامی نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اچھی کتابیں پڑھنے کی عادت اپنانی چاہیے اور سب سے بہترین کتاب قرآنِ مجید ہے، جو پوری انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کی گئی ہے۔ انہوں نے جدید تعلیم کے ساتھ اخلاقی اقدار، نظم و ضبط اور کردار سازی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو خود اعتمادی، صبر، محنت اور بھائی چارے کی قدروں کو اپنانے کا مشورہ دیا۔ اعزازی مہمان ڈی پی ورلڈ دبئی کے اسسٹنٹ مینجر رائد رحمت نے طلبہ کو کیریئر کے انتخاب کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی اور کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے جدید ٹولز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کی پہچان کے بعد مستقبل کے تعلیمی میدان کا انتخاب کرنا چاہیے۔ خصوصی خطاب میں شریف شیخ التفسیر مولانا نعیم الدین اصلاحی نے طلبہ کو بڑے خواب دیکھنے کی تلقین کی اور کہا کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو رات کو نیند میں دیکھے جائیں، بلکہ اصل خواب وہ ہیں جو دن میں انسان کو سونے نہ دیں۔

اس موقع پر اسکول کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پرنسپل لیاقت علی نے بتایا کہ ICSE کے تحت دسویں جماعت کے امتحانات میں اسکول نے صد فیصد نتائج درج کیے۔ انعم رکن الدین نے 95.6 فیصد کے ساتھ پہلی، فائحہ سِدّی باپا نے 94.8 فیصد کے ساتھ دوسری اور الوینہ نے 92 فیصد کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔ کھیلوں کے میدان میں جماعت نہم کے طالب علم فلاح ایم جے نے CISCE نیشنل لیول کراٹے مقابلے میں گولڈ میڈل حاصل کیا، جبکہ محمد شرائم نے سلور اور نواز دامودی نے برونز میڈل اپنے نام کیا۔ مختلف بین المدارس فیسٹ میں بھی طلبہ کی کارکردگی شاندار رہی۔ اساتذہ کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محترمہ حاجرہ جبین نے تین ماسٹرز ڈگریاں مکمل کیں، جبکہ محترمہ کیرتی نائک نے کنڑا ساہتیہ پریشد کے زیرِ اہتمام نظم نویسی مقابلے میں اول انعام حاصل کیا۔
پروگرام کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ پورا جلسہ اسکول کے طلبہ نے نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالا۔ پروگرام کا آغاز حیّان ایس ایم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کا ترجمہ سید اُمیض نے پیش کیا۔ گریڈ دہم اور پی یو کے طلبہ نے شمس اسکول کا ترانہ پیش کیا۔ شاہد کھروری نے استقبالیہ کلمات کے ذریعے مہمانوں کا خیرمقدم کیا، جبکہ محمد اذہان اور محمد زیّان نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ سالانہ رپورٹ کی خواندگی کے بعد مہمانانِ گرامی کے ہاتھوں اسکول سووینئر کا افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ نے قوالی، تقاریر اور دیگر ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے۔
اسکول کے چیئرمین نذیر احمد قاضی نے اسکول کی مجموعی کارکردگی پر مسرت اور اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ آخر میں سینئر استاد محمد رضا مانوی کے کلمۂ تشکر پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر متعدد ذمہ داران اور معزز شخصیات موجود تھیں، جن میں بالخصوص تربیت ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر اسماعیل محتشم، عزیزالرحمن رکن، الدین ندوی، ڈاکٹر خواجہ اویس، مولانا زبیر اور طلحہ سدی باپا شامل تھے۔


