بھٹکل، 17 فروری (ایس او نیوز) جالی پٹن پنچایت کی میٹنگ اُس وقت گرما گئی جب اراکین نے علاقے میں جاری کروڑوں روپے کے یو جی ڈی (انڈر گراؤنڈ ڈرینیج) منصوبے کی سست رفتار پیش رفت، غیر معیاری کام اور عوام کو درپیش مسائل پر سخت سوالات اٹھائے۔ کونسلروں نے واضح کیا کہ منصوبہ مکمل ہونے اور باضابطہ ٹرائل ٹیسٹ کے بغیر اسے روبہ عمل نہیں لایا جائے گا، جبکہ غیر قانونی کنکشن اور نکاسیٔ آب کے نظام میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
پیر کو منعقدہ اجلاس میں توفیق بیری، رمیش گونڈا، مصباح الحق، منیر صاحب سمیت دیگر کئی کونسلروں نے 2017 میں شروع ہونے والے اس پروجیکٹ پر شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ آخر یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا اور کب عوام کو اس کا مکمل فائدہ ملے گا؟ کاروار سے آئے پینے کے پانی و صفائی محکمہ کے اسسٹنٹ انجینئر ابھیشیک نے بتایا کہ بعض علاقوں میں عوامی اعتراضات کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیش آئی ہے۔
اس پر کونسلروں نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کے اعتراضات بے بنیاد نہیں بلکہ حقیقی مسائل پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مقامات پر بھاری مشینری کے استعمال سے گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑی ہیں، سڑکوں کی کھدائی کے بعد انہیں درست طریقے سے بحال نہیں کیا گیا، اور متاثرہ مکینوں کو نقصان کی بھرپائی نہیں دی گئی۔ اراکین نے کہا کہ اگر ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تو وہ خود عوام کو قائل کرکے کام آگے بڑھانے میں تعاون کریں گے۔

ایک کونسلر نے شیڈکولی علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پائپ بچھانے کے لیے برساتی پانی کی نکاسی والی نالیوں کے اندر ہی کھمبے نصب کر دیے گئے ہیں، جس سے بارش کے موسم میں پانی کی روانی متاثر ہوگی اور مصنوعی سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق نالیوں کے اندر کھمبے نصب کرنا تکنیکی طور پر غلط فیصلہ ہے اور اخراجات بچانے کی کوشش میں عوام کو مشکلات سے دوچار کیا گیا ہے۔
اجلاس میں یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ یو جی ڈی منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا، مگر قانونی کنکشن کے لیے گھروں کے پائپ مین لائن کے قریب چھوڑ دیے گئے ہیں۔ اس دوران بعض مکینوں نے غیر قانونی طور پر اپنے کنکشن براہِ راست یو جی ڈی لائن سے جوڑ کر گندا پانی چھوڑنا شروع کر دیا ہے، جس سے برسات کے موسم میں بارش اور سیوریج کا پانی مل کر سڑکوں پر جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
جب اسسٹنٹ انجینئر نے غیر قانونی کنکشن روکنے کی ذمہ داری پنچایت پر عائد کرنے کی کوشش کی تو کونسلر برہم ہو گئے۔ بھٹکل پٹن پنچایت کے اسسٹنٹ انجینئر آنند راؤ نے بھی واضح کیا کہ جب تک منصوبہ باضابطہ طور پر پنچایت کے حوالے نہیں کیا جاتا، اس کی نگرانی یا خلاف ورزیوں کو روکنا ان کی ذمہ داری نہیں بنتی۔ کونسلروں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مقامی کنٹریکٹر مکمل کنٹرول میں نہ ہونے کی صورت میں ادھورا کام چھوڑ کر جا سکتا ہے، اس لیے محکمہ کو اس پہلو پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔
اس سے قبل اسسٹنٹ انجینئر ابھیشیک نے جالی میں جاری یو جی ڈی منصوبے کی پیش رفت کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 53 کروڑ روپے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مجموعی طور پر 42.69 کلو میٹر ڈرینیج لائن بچھائی جانی ہے، جس میں سے 39.51 کلو میٹر مکمل ہو چکی ہے۔ 1600 مین ہولز کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جن میں سے 1500 مکمل کیے جا چکے ہیں۔ 3716 گھروں کو کنکشن فراہم کرنا ہے، جن میں سے 2317 گھروں کو کنکشن دیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کا 90 فیصد تکنیکی اور 78 فیصد مالی کام مکمل ہو چکا ہے۔
جالی پٹن پنچایت کی صدر افشاں قاضیا کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے اختتام پر نائب صدر ایڈوکیٹ عمران لنکا نے قرارداد پڑھ کر سنائی، جس میں واضح کیا گیا کہ غیر قانونی کنکشن جوڑنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کونسلر اپنے اپنے علاقوں میں باقی ماندہ کام مکمل کروانے میں تعاون کے لیے تیار ہیں، مگر انہیں اعتماد میں لے کر کام آگے بڑھایا جائے۔ ضرورت پڑنے پر پولیس اور متعلقہ محکموں کا تعاون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مقامی انجینئر اروند راؤ کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کریں جہاں غیر معیاری یا نامکمل کام کی شکایات ہیں اور بند پڑی نکاسیٔ آب کی نالیوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ عمران لنکا نے اسسٹنٹ انجینئر کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ مکمل کام اور کونسلروں کی موجودگی میں ٹرائل ٹیسٹ کے بعد ہی منصوبے کو عملی طور پر شروع کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران فنڈ کی تقسیم کا معاملہ بھی موضوعِ بحث بنا۔ وارڈ نمبر 2 کی رکن پدماوتی نائک نے الزام لگایا کہ گزشتہ دو برسوں میں ان کے وارڈ کو ترقیاتی کاموں کے لیے خاطر خواہ فنڈ فراہم نہیں کیا گیا اور کم از کم دس لاکھ روپے مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر عمران لنکا، ناگ راج نائک، منیر اور دیگر اراکین نے جواب دیا کہ فنڈ قواعد کے مطابق تقسیم ہوتا ہے، جبکہ ایم ایل اے اور ایم پی فنڈ کے تعلق سے متعلقہ عوامی نمائندوں سے سوال کیا جانا چاہیے۔
پدماوتی نائک جواب سے مطمئن نہ ہوئیں اور انہوں نے دیگر وارڈوں میں کروڑوں روپے کے کام ہونے کا حوالہ دیا۔ اس پر توفیق بیری، رمیش نائک اور ایشور موگیر نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سابق دور میں جب پانچ کروڑ روپے کا فنڈ چند وارڈوں تک محدود رہا، اس وقت اعتراض کیوں نہیں کیا گیا؟
میٹنگ میں چیف آفیسر منجپّا سمیت دیگر پنچایت اہلکار بھی موجود تھے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ عمران لنکا نے بتایا کہ جالی پٹن پنچایت میں یو جی ڈی منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 68 کروڑ روپے منظور ہوئے تھے، جن میں سے تقریباً 63 کروڑ روپے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ 2017 میں شروع ہوا تھا اور پانچ سال میں مکمل ہونا تھا، مگر متعدد توسیعات کے باوجود اب تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ ان کے مطابق بعض وارڈوں میں 95 تا 98 فیصد جبکہ کچھ علاقوں میں 80 تا 85 فیصد کام مکمل ہوا ہے، تاہم مکمل تکمیل اور ٹرائل ٹیسٹ کے بعد ہی اسے باضابطہ طور پر روبہ عمل لایا جائے گا۔