ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل ٹیکسی یونین کی کاروار میں شکایت؛ متبادل انتظام کے بغیر ٹیکسی اسٹینڈ ہٹانے کی مخالفت؛ نجی گاڑیوں کی من مانی پر روک کا مطالبہ

بھٹکل ٹیکسی یونین کی کاروار میں شکایت؛ متبادل انتظام کے بغیر ٹیکسی اسٹینڈ ہٹانے کی مخالفت؛ نجی گاڑیوں کی من مانی پر روک کا مطالبہ

Thu, 05 Feb 2026 13:53:32    S O News
بھٹکل ٹیکسی یونین کی کاروار میں شکایت؛ متبادل انتظام کے بغیر ٹیکسی اسٹینڈ ہٹانے کی مخالفت؛ نجی گاڑیوں کی من مانی پر روک کا مطالبہ

کاروار، 5 فروری (ایس او نیوز): بھٹکل میں قومی شاہراہ کی توسیع کے نام پر آئی آر بی کمپنی کے عہدیداروں کی جانب سے کسی متبادل انتظام کے بغیر ٹیکسی اسٹینڈ ہٹانے کی کوششوں پر بھٹکل ٹیکسی ڈرائیور و مالکان یونین نے سخت اعتراض جتایا ہے۔ اس سلسلے میں یونین کے ذمہ داران نے کاروار پہنچ کر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این اور ڈپٹی کمشنر محترمہ لکشمی پریا کو میمورنڈم پیش کیا، جبکہ بعد ازاں کاروار پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے مطالبات سامنے رکھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے صدر گنیش دیواڈیگا نے کہا کہ گزشتہ 40 برسوں سے بھٹکل بس اسٹینڈ کے سامنے ٹیکسی اسٹینڈ قائم ہے، تاہم اب قومی شاہراہ کی توسیع کے نام پر حکام اچانک ٹیکسی ڈرائیوروں کو جگہ خالی کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ٹیکسی اسٹینڈ کے لیے کوئی مناسب متبادل جگہ مختص نہیں کی جاتی، یونین اسٹینڈ خالی نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سمیت متعلقہ حکام کو درخواستیں دی جا چکی ہیں، مگر تاحال کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔

bhatkal-taxi-union-karwar

یونین کے جنرل سیکریٹری جگدیش نائک نے کہا کہ بھٹکل میں کئی آٹو رکشے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ حد سے کہیں زیادہ فاصلے، جیسے کنداپور، اُڈپی اور سگندور سمیت دیگر دور دراز علاقوں تک سفر کر رہے ہیں، حالانکہ آٹو رکشاؤں کی مجاز سفری حد صرف 7 کلومیٹر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 200 سے زائد نجی گاڑیاں غیر قانونی طور پر کرایہ پر مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جبکہ بغیر اجازت چلنے والی نجی بسیں بھی اُڈپی سے منگلورو تک آمد و رفت کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث  ٹیکسی ڈرائیور شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔

یونین کے نائب صدر محمد مشتاق نے کہا کہ طویل فاصلے کے سفر کے لیے ذاتی رجسٹریشن نمبر والی سفید بورڈ گاڑیوں کا استعمال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ کسی حادثے کی صورت میں مسافروں کو انشورنس تحفظ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سرسی میلے کے دوران اس طرح کی گاڑیوں کی آمد و رفت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے خلاف یونین احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یونین کی جانب سے پیش کردہ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھٹکل میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں کو لے جانے والے آٹو رکشاؤں، نجی گاڑیوں اور بیرونِ ریاست رجسٹریشن والی بسوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ اس پر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این نے مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جبکہ ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا نے بتایا کہ وہ خود بھٹکل پہنچ کر جائے وقوع کا معائنہ کریں گی اور حالات کے مطابق مناسب فیصلہ کریں گی۔

اس موقع پر سید فیصل، رمیش نائک، عدنان، گجانند دیواڈیگا، رگھو شیٹ، محمد سلیم، عبدالباری اور محمد سلمان سمیت دیگر افراد موجود تھے۔


Share: