بھٹکل 9/مئی (ایس او نیوز) مجلس اصلاح و تنظیم کے سہ سالہ میعاد کے لیے 12 مئی کو ہونے والے انتخابات کو لے کر بھٹکل میں غیرمعمولی سیاسی و سماجی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ سو سالہ قدیم اس باوقار مسلم قومی ادارے کے انتخابات میں اس مرتبہ انتظامیہ میں بڑی تبدیلی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ نئی انتظامیہ میں 50 فیصد سے زائد ایسے اراکین شامل ہوں گے جو پہلی مرتبہ تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
شہر بھر میں انتخابی ماحول گرم ہے اور مختلف حلقوں میں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی فضا بن چکی ہے۔ خاص طور پر حلقہ نمبر 2 اور حلقہ نمبر 14 اس بار سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، تاہم دونوں حلقوں کی اہمیت کی نوعیت الگ الگ ہے۔ حلقہ نمبر 2 ووٹروں کی سب سے زیادہ تعداد کی وجہ سے نمایاں ہے، جبکہ حلقہ نمبر 14 میں امیدواروں کی غیرمعمولی تعداد اور اہم شخصیات کی موجودگی نے مقابلے کو انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔
تنظیم کا حلقہ نمبر 2 اس بار بھٹکل کا سب سے بڑا انتخابی حلقہ بن کر سامنے آیا ہے۔ خلیفہ محلہ، صدیق اسٹریٹ، ڈونگرپلی اور ڈارنٹا علاقوں پر مشتمل اس حلقہ میں کل 246 ووٹرس درج ہیں، جو تمام حلقوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہاں 6 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں سے 5 امیدواروں کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ ووٹروں کی سب سے زیادہ تعداد ہونے کی وجہ سے اس حلقہ پر خصوصی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب حلقہ نمبر 14 کو اس بار سب سے زیادہ سنسنی خیز اور سخت مقابلے والا حلقہ تصور کیا جا رہا ہے۔ کارگیدے، شفا کالونی، ہاؤسنگ بورڈ، گول مسجد، ہورلی سال، مریم علی کالونی، مکہ کالونی اور مین روڈ کے علاقوں پر مشتمل اس حلقہ میں 232 ووٹرس موجود ہیں، جبکہ سب سے زیادہ یعنی 10 امیدوار انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ یہاں سے بھی 5 اراکین منتخب کیے جائیں گے۔ اس حلقہ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ تنظیم کے موجودہ صدر عنایت اللہ شاہ بندری بھی اسی حلقہ سے انتخابی میدان میں ہیں، جس کے سبب انتخابی ماحول مزید گرم ہوگیا ہے۔
اسی طرح آزاد نگر اور جالی روڈ پر مشتمل حلقہ نمبر 13 بھی نمایاں حلقوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس حلقہ میں ووٹروں کی تعداد 210 ہے جبکہ 6 امیدوار میدان میں ہیں۔ یہاں بھی 5 امیدوار کامیاب قرار دیے جائیں گے۔
تنظیم کے مقرر کردہ الیکشن کمشنر محی الدین الطاف کھروری نے بتایا کہ بھٹکل کے مجموعی 16 حلقوں سے 45 اراکین کا انتخاب کیا جانا تھا۔ نامزدگی داخل کرنے اور واپس لینے کی آخری تاریخ 5 مئی مقرر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد امیدواروں نے اپنے نامزدگی فارم واپس لے لیے، جس کے نتیجے میں حلقہ نمبر 3، 4، 5، 6، 8، 11 اور 15 سے مجموعی طور پر 15 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔
اب حلقہ نمبر 1، 2، 7، 9، 10، 12، 13، 14 اور 16 میں 12 مئی کو باقاعدہ پولنگ ہوگی۔ ووٹنگ کا عمل صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہے گا، جس کے فوراً بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی جائے گی، جبکہ باضابطہ نتائج کا اعلان 14 مئی کو کیا جائے گا۔ الیکشن کمشنر نے تمام اراکین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لے کر تنظیم کے انتخابی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔