بھٹکل، 18 جنوری (ایس او نیوز): جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹ بنا کر خواتین کو دھمکانے اور فحش پیغامات ارسال کرنے کے الزام میں بھٹکل ٹاؤن پولیس نے ایک طالب علم کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت کمٹہ تُلسی کٹّے کے رہائشی مہران مہتاب شابندری (19) کے طور پر کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس کا تعلق بھٹکل سے متصل علاقے منکی (ہوناور تعلقہ) سے ہے، تاہم وہ اپنی والدہ کے ساتھ کمٹہ میں رہتا ہے۔
پولیس کے مطابق مہران منگلورو کے ایک نجی کالج میں بی سی اے کا طالب علم ہے۔ گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد جوڈیشیل کسٹڈی میں کاروار جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ملزم کے 18 مختلف جعلی ای میل اکاؤنٹس کا بھی پتہ چلایا گیا ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ اجنبی افراد کی شادی کی تقریبات میں شریک ہو کر وہاں موجود خواتین کی تصاویر موبائل فون میں خفیہ طور پر محفوظ کرتا اور بعد ازاں انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتا تھا۔
ابتدائی طور پر بھٹکل کی ایک خاتون نے اس سلسلے میں بھٹکل پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی، جس کے بعد معاملہ سائبر کرائم سیل تک پہنچا اور تحقیقات کے نتیجے میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم اپنے جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے بعض خواتین کو برہنہ تصاویر بھیجنے کے لیے ہراساں کرتا تھا۔ پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس نے ایک خاتون کو ہندو مذہبی رہنماؤں کا حوالہ دے کر قتل کروانے کی دھمکی بھی دی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک ملزم کی شناخت سامنے نہ آنے کے باعث متاثرہ خواتین خاموش تھیں، تاہم گرفتاری کے بعد متاثرین ایک ایک کر کے پولیس تھانے پہنچ کر شکایات درج کروانے لگیں۔
اس معاملے میں بھٹکل ٹاؤن پولیس تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ سی پی آئی دیواکر کی نگرانی میں مزید تفتیش جاری ہے۔