بھٹکل ، 16 / فروری (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ کی جیون ریکھا سمجھی جانے والی ندیوں میں شمار ہونے والی سرابی ندی کی صفائی کرنے اور اس کی گہرائی بڑھانے کا منصوبہ فنڈ منظور ہونے کے باوجود ابھی تک عمل میں نہیں آیا ہے جبکہ اس سے قبل برسات کا موسم ختم ہوتے ہی کام شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔
خیال رہے کہ کوڑے کچرے اور گندگی سے بھری ہوئی سرابی ندی کی صفائی کے لئے ریاستی حکومت نے 10 کروڑ روپوں کا فنڈ منظور کیا ہے اور اس بات کو پانچ چھ مہینے گزر چکے ہیں ۔ مگر اس کام کی ٹھیکیداری کے لئے ابھی تک ٹینڈر طلب کرنے کا کام بھی نہیں ہوا ہے ۔
تاریخ کے جھروکے سے :سرابی ندی کی تاریخ دیکھیں تو اس کے کنارے ایک سنہرے دور کی گواہی دیتے ہیں جب عرب تاجروں کے قافلے یہاں اترتے تھے ۔ انہی کناروں پر بازار لگتے تھے ۔ انہی کناروں پر رکھے ہوئے پتھروں پر نمازیں ادا کی جاتی تھیں ۔ بعد کے دور میں رانی چنا بھیرا دیوی انہی کناروں پر عرب تاجروں کو کالی مرچ اور گرم مسالے فروخت کرتی تھی ۔ اتنا ہی نہیں، تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ریاست میسورو کے حکمران ٹیپو سلطان انہی کناروں پر عرب تجار سے اعلیٰ نسل کے گھوڑے خریدتے تھے ۔
شاندار ماضی : ماضی میں راجہ اور رانیوں کی آمد و رفت کی منزل، عرب تجار کی آماجگاہ اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہنے والے سرابی ندی کے کنارے آج اسی ندی کی بدترین خستہ حالی کا ثبوت بنے ہوئے ہیں ۔ کناروں کی دیوار بنے ہوئے پرانے زمانے کے بیشتر پتھر اب ندی میں گر کر اس کا حصہ بن چکے ہیں ۔ بعض جگہ کناروں کی نئی دیواریں بنا دی گئی ہیں جس کی وجہ سے پرانے پتھر ماضی کی داستان بن کر کہیں کھو چکے ہیں ۔
موجودہ بد ترین حالت : ماضی کی شاندار تاریخ کی گواہی دینے والی اور جوار بھاٹے کے ساتھ بھرنے اور اترنے کا خوبصورت منظر پیش کرنے والی سرابی ندی آج کوڑے ، کرکٹ، کچرے اور گندگی سے بھرے ہوئے ایک نالے میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ محلوں اور گلیوں کا گندا پانی اس میں بہایا جا رہا ہے ۔ کوڑا، کچرا اور مٹی جمع ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے جوار کے وقت پانی زیادہ بھر نہیں پاتا اور بھاٹے کے وقت تو کئی جگہوں پر چٹیل میدان صاف نظر آتے ہیں ۔
تیراکی سیکھنے کا ذریعہ :ایک زمانہ تھا کہ پرانے شہر کے نوجوان اس ندی میں تیراکی کا مزہ لیتے تھے اور بچے یہاں تیرنا سیکھتے تھے ۔ بالخصوص جمعہ کے دن اور اسکول کی تعطیلات کے موقع پر اس ندی کے کناروں پر مختلف جگہ تیرنے والوں کا ہجوم لگا رہتا تھا ۔ لیکن آج اس ندی کی وہ حالت بن گئی ہے کہ تیرنا تو دور کی بات ہے کوئی اس میں قدم رکھنا بھی گوارا نہیں کر سکتا ۔
مچھلیوں کا شکار :ابھی پچاس ساٹھ سال قبل تک ایک دور وہ بھی تھا جب یہاں ڈوری اور کانٹے سے مچھلیوں کا شکار کرنے والے اور جال بچھا کر مچھلیاں پکڑنے والوں کا تانتا لگا رہتا تھا ۔ آج یہاں گندگی کی وہ حالت ہے کہ نہ مچھلیاں ہیں اور نہ مچھلیاں پکڑنے والے ادھر کا رخ کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس ندی میں اگر مچھلیاں مل بھی جائیں تو یہاں کی گندگی دیکھتے ہوئے ان مچھلیوں کو کھانا بھی گوارا نہیں کیا جا سکتا ۔
سیاحت کا فروغ :ریاستی حکومت کی طرف سے سیاحت کو فروغ دینے کے سلسلے میں مختلف اقدامات اور منصوبوں کی بات کہی جاتی ہے ۔ اس زمرے میں کروڑوں روپوں کے فنڈ جاری ہونے کی بھی باتیں سنائی دے رہی ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو پھر بھٹکل تعلقہ کی اس تاریخی ندی کو بھی سیاحتی اہمیت کا مرکز بنانے کی طرف کوشش کی جانی چاہیے ۔ بحیرہ عرب سے ملنے والی اس ندی کو اس کے سنگم تک کوڑے کچرے سے پاک کرنے اور گہرائی کو بڑھاتے ہوئے اس میں چھوٹے سائز کے کروز بوٹس چلانے پرغور کیا جا سکتا ہے ۔ یہ سیاحوں کو راغب کرنے کا بہترین ذریعہ ہوگا ۔ اس کے علاوہ سرابی ندی کے کناروں پر دونوں طرف ایک دیوار تعمیر کرتے ہوئے خوبصورت لائٹنگ کا انتظام کیا جائے تو اس کی حسن میں اضافہ ہوگا جو سیاحوں کی دلکشی کا سبب بنے گا ۔
اپریل میں شروع ہو سکتا ہے کام :بہر حال سرابی ندی کی صفائی کے لئے اس وقت جو 10 کروڑ روپوں کی لاگت کا منصوبہ بنا ہے اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ تکنیکی جائزہ کی رپورٹ اور اس کی منظوری ابھی محکمہ چھوٹی آب پاشی کو نہیں ملی ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منظوری ہفتہ عشرہ میں مل جائے گی ۔ جس کے بعد اس ضمن میں اگلی کارروائی شروع ہوگی ۔ انجینئر پرشانت کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ سوچے سمجھے پلان کے مطابق ہوتا ہے تو پھر سرابی ندی سے کوڑا نکالنے کا کام اپریل کے پہلے ہفتے میں شروع ہو جائے گا۔