بھٹکل 5/نومبر (ایس او نیوز) کہتے ہیں کہ "مؤمن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا".لیکن یہ جان کر ہر کوئی حیرت کا اظہار کررہا ہے کہ بھٹکل جیسے تعلیمی اور باشعور شہر میں لوگ بار بار آسان کمائی اور پونزی اسکیم کے جھانسے میں آکراُن کے جال میں پھنس رہے ہیں اوردھوکے بازوں کے لئے یہاں کے لوگوں کا اعتماد جیت کر لاکھوں اور کروڑوں روپیوں کو بٹور کر فرار ہونا دائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا ہے۔
تازہ واردات بدھ کو سامنے آئی جہاں ’’گلوبل انٹر پرائزس‘‘ نامی دکان نے گھریلو فرنیچر، موبائل، الیکٹرانک اشیاء وغیرہ کو آدھی قیمت کا آفر دے کر دس اور پندرہ دنوں میں مال کی ڈیلیوری دینے کا وعدہ کیا اور پھر جب بڑی رقم موصول ہوئی تو، دکان مالک لاکھوں روپئے لے کر فرار ہوگیا۔
پتہ چلا ہے کہ دکاندار نے ابتدائی طور پر چند گاہکوں کو آدھی قیمتوں میں سامان فراہم کر کے ان کا اعتماد حاصل کیا، اور بعد میں سینکڑوں لوگوں سے پیشگی رقم وصول کرنے کے بعد دکان بند کر کے رفوچکر ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق ماری کٹہ کے قریب کاراسٹریٹ میں واقع ایک کمپلیکس میں ’’گلوبل انٹر پرائزس‘‘ کے نام سے گھریلو اشیاء کی دکان قائم کرنے والا تمل ناڈو کا باشندہ اُدے کمار رینگا راجو گزشتہ پچیس دنوں سے عوام کو دھوکہ دینے کے اس منصوبے پر عمل کررہا تھا۔ اس نے چھ مقامی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ملازم رکھ کر، بازار کے مقابلے میں آدھی قیمت پر سامان فراہم کرنے کا پرچار شروع کیا، جس سے عوام کی بڑی تعداد اس کی باتوں میں آگئی۔ ابتدا میں چند گاہکوں کو، جنہوں نے نقد رقم ادا کی تھی، چار دن کے اندر فریج، ٹی وی اور اے سی جیسے سامان فراہم کیے ۔ اس کے بعد محلہ محلہ جا کر پمفلٹ تقسیم کیے اور مزید پُرکشش آفرز کا اعلان کیا۔
قلیل عرصے میں سینکڑوں افراد اس کے جھانسے میں آگئے۔ کئی لوگوں نے ایک ایک لاکھ روپے تک بطور پیشگی ادا کر کے سامان بک کرایا، مگر بدھ کی صبح جب دکان بند ملی تو لوگ ششدر رہ گئے۔ مشتعل عوام نے دکان کا تالا توڑ کر اندر موجود سامان نکالنے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران شہر کے پولس انسپکٹر دیواکر پولس عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور لوگوں کو سمجھایا کہ جو افراد رقم گنوا بیٹھے ہیں وہ انفرادی طور پر پولس تھانہ میں شکایت درج کرائیں، تاکہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔
ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ ’’میں نے پمفلٹ دیکھ کر سب سے پہلے فریج خریدا تھا۔ چار دن کے اندر مجھے سامان مل گیا، تو مجھے یقین آگیا۔ پھر میں نے پانچ مزید سامانوں کے لیے ایک لاکھ روپے پیشگی دیے، مگر اب دکان بند ہے اور مالک فرار ہوچکا ہے۔ اس کے مطابق میرے جیسے سینکڑوں لوگ اس دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘ اس طرح کے کئی دیگر لوگوں نے بھی اپنی اپنی بات کہی ہے، کسی سے ایک لاکھ، کسی سے پچاس ہزار، کسی سے پانچ ہزار اور کسی سے چار سو روپئے بھی ایڈوانس لینے کی بات معلوم ہوئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دکان کے سامنے واقع ایک اور تاجر ثناء اللہ گوائی نے گزشتہ ماہ ہی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمل ناڈو کا ایک شخص آدھی قیمت کے بہانے عوام کو دھوکہ دینے کے ارادے سے کاروبار کر رہا ہے۔شکایت میں کہا گیا تھا کہ دکاندار پہلے مکمل پیشگی رقم لے کر وعدہ کرتا ہے کہ دو ہفتوں میں سامان فراہم کرے گا، مگر دراصل وہ غیر حقیقی نرخ دکھا کر عوام کو جھانسہ دے رہا ہے۔ ثناء اللہ گوائی کا کہنا ہے کہ اس آفر سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ بہت بڑا فراڈ کرکے فرار ہونے کے چکر میں ہے۔
ثنا؍ اللہ صاحب کے میڈیا کے سامنے آکر بیان دینے کے بعد عوام سوال کررہے ہیں کہ شکایت موصول ہونے کے بعد کیا پولس نے کسی قسم کی کوئی کاروائی بھی کی ؟ اگر کاروائی کی ہے اور دکان مالک کا پتہ اور اس کا ٹھکانہ پولس نے پہلے ہی معلوم کیا ہے تو کیا پولس اسے گرفتار کرکے عوام کو اُن کی رقومات واپس دلائے گی ؟
معاملہ سامنے آنے کے بعد کاروار میں ضلع کے ایس پی مسٹردیپن نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ دھوکہ دہی کے معاملے میں دکان مالک کے خلاف بھٹکل میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر شام تک 180 متاثرہ افراد پولیس اسٹیشن پہنچ کر شکایت درج کرائی ہے، اور اب تک تقریباً 14 لاکھ روپے ایڈوانس بٹورنے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایس پی نے دیگر متاثرہ عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا ہے ، وہ پولس تھانہ پہنچ کر اپنی شکایت درج کرائیں۔تاکہ قانونی کارروائی تیز ہو سکے۔
مقامی لوگوں کی مانیں تو سینکڑوں مزید لوگوں نے اپنے ساتھ ہوئے فراڈ کی ابھی تک شکایت درج نہیں کرائی ہے، لوگوں کی مانیں تو پچاس لاکھ سے ایک کروڑ روپئے لے کر دکان مالک فرار ہوا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پولیس اس تازہ معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے اور کیا وہ دھوکہ دے کر فرار ہونے والے شخص کی گردن کو دبوچنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔