بھٹکل، یکم نومبر(ایس او نیوز): نیشنل ہائی وے ڈپارٹمنٹ کی سنگین لاپرواہی کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، گذشتہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں صرف 600 میٹر کے فاصلے میں تین مزید افراد حادثات کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگئے۔ یہ صورتحال محکمہ کی ناقص منصوبہ بندی پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔
جب نیشنل ہائی وے فورلین منصوبے کی شروعات ہوئی تھی، اُس وقت ماہرین اور عوامی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ شاہراہ کو شہر کے مضافات سے گزارا جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور حادثات سے بچا جا سکے۔ اسی مقصد کے لیے ریلوے روڈ کے متوازی ایک بائی پاس منصوبہ تیار کیا گیا تھا جو شمس الدین سرکل سے سرپن کٹے کے راستے شیرالی تک تعمیر ہونا تھا۔ مگر چند بااثر افراد کے ذاتی مفادات اور زمین کی لالچ کے باعث یہ منصوبہ روک دیا گیا اور آج تک وہی مسئلہ جوں کا توں باقی ہے۔
اگر یہ بائی پاس سڑک بن جاتی تو نہ صرف شہر کے مرکزی حصے حادثات سے محفوظ رہتے بلکہ ترقی کا دائرہ مضافاتی علاقوں تک پھیل جاتا۔ مگر لینڈ مافیا اور بعض سرمایہ داروں کے دباؤ میں آکر میونسپل انتظامیہ نے بائی پاس ہائی وے کو منسوخ کر کے موجودہ شاہراہ کو ہی چوڑا کرنے کی سفارش کی، جو آج کے خطرناک حالات کی بنیادی وجہ بن گئی۔
شاہراہ کو شہر کے اندر سے گزارنے کے بعد زمین کی دستیابی کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ عدالتوں میں مقدمات، غیر مسمار شدہ عمارتیں، معاوضہ ملنے کے باوجود جگہ خالی نہ کرنے والے افراد اور غیر قانونی تعمیرات نے منصوبے کی رفتار سست کر دی۔
منصوبے کے مطابق موڈ بھٹکل بائی پاس سے تنگن گنڈی کراس تک کئی جگہوں پرسروس روڈ تعمیرہونا تھا اورشیرالی میں بھی یہی نظام تجویز کیا گیا تھا، مگر مختلف اداروں کی غیرسنجیدگی نے منصوبے کو پٹری سے اتار دیا۔ نتیجتاً رنگین کٹے سے تنگن گنڈی کراس تک سروس روڈ کا وجود ہی ختم ہوگیا اورعوام کو جان جوکھم میں ڈال کر مین ہائی وے استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔

ساگر روڈ سے بندر روڈ تک کی شاہراہ کو جب ریاستی شاہراہ کے درجے پر ترقی دی گئی تھی، تو شمس الدین سرکل پر 25 فٹ اونچا فلائی اوور بنانے کا منصوبہ تھا، ساتھ ہی بس اسٹینڈ کی طرف نیشنل ہائی وے پر سروس روڈ اور لیول کراسنگ بھی شامل تھی۔ مگر آج ان میں سے کوئی بھی چیز منصوبے میں نظر نہیں آتی۔ اب یہ واضح نہیں ہے کہ ہائی وے کی تعمیر آخر کس ڈیزائن کے مطابق ہو رہی ہے۔
ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی (IRB) کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد کام مکمل کرنا چاہتی ہے، لیکن تعلقہ اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے تعاون کی کمی کے باعث پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔
عوام کا سوال ہے کہ جب فلائی اوور اور سروس روڈ کے بغیر نیشنل ہائی وے مکمل ہوگا تو کیا تیز رفتار گاڑیوں سے حادثات میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟ اب جبکہ ہائی وے کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا ہے اور قلبِ شہر میں کوالٹی ہوٹل سے لے کر تنگن گنڈی کراس تک نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے، ایسے میں اگر یہ سڑک مکمل ہوگئی تو کیا تیز رفتار سواریوں کی آمدورفت عوام کے لیے جان لیوا ثابت نہیں ہوگی؟ شہری یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ شہر کی سماجی تنظیمیں اس سنگین مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟
افسوس کہ آئی آر بی کمپنی نئی تعمیر شدہ سڑک کو بہتر حالت میں رکھنے میں بھی ناکام نظر آ رہی ہے۔ موڈبھٹکل بائی پاس پر جہاں اچانک چار لائن سے دو لائن شروع ہوتی ہے، وہاں متعدد حادثات رونما ہوچکے ہیں۔ وینکٹاپور میں پرانے پل کو بند کر کے نئے پل پر دو طرفہ ٹریفک کی وجہ سے بھی کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، مگر عوامی نمائندے تاحال خاموش ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر شہر کے قلب میں بغیر سروس روڈ اور فلائی اوور کے نیشنل ہائی وے تعمیر کیا گیا تو ان حادثات کی ذمہ داری کون لے گا؟ بارش کے موسم میں نیشنل ہائی وے جس طرح تالاب کا منظر پیش کرتا ہے، اس مسئلے کو حل کیے بغیر اگر ہائی وے مکمل کیا گیا تو بعد میں اس کا حل کیسے نکالا جائے گا؟ عوام یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ ابھی ہائی وے کا کام مکمل ہی نہیں ہوا تو شیرور ٹول ناکہ پر ٹول وصولی کیوں جاری ہے؟
کیا ریاستی حکومت، ضلع انچارج وزیر اور مقامی نمائندے اس سنگین مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کریں گے؟ کیا نیشنل ہائی وے ہوراٹا سمیتی اور دیگر سماجی ادارے عوامی جانوں کے تحفظ کے لیے کوئی مضبوط قدم اٹھائیں گے؟ یا پھر بھٹکل کے شہریوں کو اپنی زندگیاں یوں ہی اس شاہراہ پر قربان کرنی پڑیں گی؟