ممبئی، 14/جولائی(ایس او نیوز ) مہاراشٹر کے ضلع ستارا میں محکمہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) نے نقلی دودھ تیار کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے طبیلے پر چھاپہ مارا جہاں حیرت انگیز طور پر ایک بھی گائے یا بھینس موجود نہیں تھی، لیکن وہاں کیمیکل کی مدد سے دودھ تیار کیا جا رہا تھا۔ اس انکشاف نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ ریاست بھر میں دودھ کی خالصیت اور عوامی صحت کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ معاملہ 13 جولائی 2026 کو اس وقت منظر عام پر آیا جب ایف ڈی اے کی ایک خصوصی ٹیم نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ضلع ستارا کے پلٹن تعلقہ میں دریائے نیرا کے کنارے واقع ہول (Hol) گاؤں کے ایک مشتبہ طبیلے پر اچانک چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران افسران یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ طبیلے میں دودھ دینے والا کوئی جانور موجود نہیں تھا، اس کے باوجود وہاں مختلف کیمیکلز کی مدد سے مصنوعی دودھ تیار کیا جا رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان روزانہ تقریباً 30 سے 35 لیٹر نقلی دودھ تیار کر رہے تھے۔ ایف ڈی اے نے موقع سے مشتبہ کیمیائی مادے اور دیگر سامان ضبط کر کے ان کے نمونے لیبارٹری جانچ کے لیے بھیج دیے ہیں تاکہ ان میں استعمال ہونے والے اجزا اور ان کے انسانی صحت پر ممکنہ اثرات کا تعین کیا جا سکے۔
کارروائی کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف پلٹن رورل پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تیار کیا جانے والا یہ مصنوعی دودھ کن علاقوں میں سپلائی کیا جا رہا تھا اور آیا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک سرگرم ہے۔
اس کارروائی کے بعد مقامی شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پلٹن اور اطراف کے علاقوں میں اسی نوعیت کے مزید غیر قانونی مراکز بھی سرگرم ہو سکتے ہیں۔ عوام نے ایف ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف ایک کارروائی پر اکتفا کرنے کے بجائے پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر مہم چلائی جائے تاکہ ایسے تمام مراکز کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق کیمیکل سے تیار کردہ یا ملاوٹ شدہ دودھ کا مسلسل استعمال انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے دودھ میں استعمال ہونے والے بعض کیمیائی اجزا معدے، جگر، گردوں اور دیگر اعضاء کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے اس قسم کی ملاوٹ کو محض غذائی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوامی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایف ڈی اے نے دودھ میں ملاوٹ کے خلاف اپنی مہم مزید تیز کر دی ہے۔ اسی سلسلے کی کارروائی کے دوران پلٹن تعلقہ کا یہ چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا، جس نے ایک بار پھر دودھ کی سپلائی چین اور خوراک کے معیار پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔