ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مغربی بنگال میں انتخاب سے قبل 27 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج، رپورٹ میں 70 فیصد مسلمان ہونے کا دعویٰ

مغربی بنگال میں انتخاب سے قبل 27 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج، رپورٹ میں 70 فیصد مسلمان ہونے کا دعویٰ

Thu, 16 Jul 2026 12:09:47    S O News
مغربی بنگال میں انتخاب سے قبل 27 لاکھ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج، رپورٹ میں 70 فیصد مسلمان ہونے کا دعویٰ

کولکاتہ ، 16 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی فہرستوں کی خصوصی سخت نظرثانی کے دوران۲۷؍ لاکھ سے زائد ووٹرز کو زیرِ سماعت رکھا گیا تھا۔ کلکتہ کے ایک تحقیقی ادارے’’سبر انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے تجزیے کے مطابق ان میں سے تقریباً۷۰؍ فیصد مسلمان تھے۔انسٹی ٹیوٹ نے منگل کو سوشل میڈیا پر بتایا کہ اس زمرے میں۵۱؍ فیصد ووٹرز خواتین تھیں۔ادارے کے مطابق ان میں سے زیادہ تر ووٹرز اس لیے زیرِ سماعت آئے کہ نظرثانی کے دوران ان کی ذاتی معلومات میں تضادات پائے گئے، جیسے والدین کے ناموں میں عدم مطابقت، والدین سے عمر کا کم فرق، یا والدین کے چھ سے زائد بچے ہونا۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں فروری میں شائع ہونے والی حتمی فہرستوں میں ابتدائی طور پر۶۱؍ لاکھ سے زائد ووٹرز شامل نہیں تھے، جبکہ ضمنی فہرستوں اور تقریباً۶۰؍ لاکھ ’’مشکوک اور زیرِ التواء‘‘معاملات  کی سماعت کا سلسلہ جاری رہا۔بعد ازاں ۶؍ اپریل تک نظرثانی کے آغاز سے پہلے کے کل ووٹرز میں سے تقریباً۹۱؍ لاکھ رائے دہندگان کو فہرستوں سے خارج کر دیا گیا تھا۔اسمبلی انتخابات سے قبل اپیلٹ ٹریبونل میں تقریباً ۳۴؍ لاکھ اپیلیں زیرِ التواء تھیں، جن میں سے۲۷؍ لاکھ ان افراد کی تھیں جنہیں ووٹر لسٹ سے خارج کیا گیا تھا۔ تاہم خصوصی نظرثانی کے عمل کے تحت قائم کیے گئے ان ٹریبونل نے صرف۱۶۰۷؍ ناموں کو ووٹر فہرست میں دوبارہ شامل کرنے کی اجازت دی۔

یاد رہےکہ خصوصی نظر ثانی ( ایس آئی آر) ایک قواعد ہے جس کے ذریعے انتخابی فہرست کو ترمیم کے ذریعے ترتیب دیا جاتا ہے ، اس عمل کا مقصدفوت شدہ افراد کے نام فہرست سے حذف کرنا اور حق رائے دہی کی عمر کو پہنچنے والے نوجوانوں کے نام شامل کرنا ہوتا ہے، لیکن حالیہ ایس آئی آر کے عمل کے دوران، معمولی غلطیوں کی بنیاد پر جس بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کے نام حذف کئے گئے، اس نے اس عمل کو مشکوک اور متنازع بنا دیا۔ 


Share: