ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: انجمن ڈے کے موقع پر کرناٹک اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر کا شاندار خطاب اگلے سو سال میں انجمن کو کہاں پہنچانا ہے، اس کی منصوبہ بندی پر ذمہ داران کو دیا زور

بھٹکل: انجمن ڈے کے موقع پر کرناٹک اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر کا شاندار خطاب اگلے سو سال میں انجمن کو کہاں پہنچانا ہے، اس کی منصوبہ بندی پر ذمہ داران کو دیا زور

Sat, 13 Dec 2025 21:09:54    S O News
بھٹکل: انجمن ڈے کے موقع پر کرناٹک اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر کا شاندار خطاب  اگلے سو سال میں انجمن کو کہاں پہنچانا ہے، اس کی منصوبہ بندی پر ذمہ داران کو دیا زور

بھٹکل 13/ڈسمبر (ایس او نیوز)  انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے 106 سال مکمل ہونے پر آج 13 ڈسمبر کو  انجمن ڈے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، آج پہلا دن مرد حضرات کے لئے مخصوص تھا جبکہ کل 14 دسمبر خواتین کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ 

انجمن ڈے تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے  کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر جناب یو ٹی قادر نے  کنڑا زبان میں شاندار خطاب کے ساتھ ایک طرف طلبہ و طالبات کو مفید مشوروں سے نوازا  تو دوسری طرف انہوں نے انجمن کے ذمہ داران کوبھی  اگلے سو سال کا منصوبہ تیارکرنے اور اُس کے لئے کوشاں ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

یوتی قادر نے اپنے خطاب کی ابتدا یہ پوچھ کر کیا کہ یہاں کتنے لوگ ہیں جن کو کنڑا زبان معلوم نہیں ہے، جب کہیں سے ہاتھ نہیں اُٹھا  تو انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں اپنی ریاستی کنڑا زبان سیکھنی چاہئے۔ 

یوٹی قادر نے  کہا کہ انجمن کے قیام کے 106 برس مکمل ہونے کے موقع پر انجمن ڈے کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ میں انجمن کے موجودہ صدر، جنرل سکریٹری اور تمام ذمہ داران کے ساتھ ساتھ اُن بانیان کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے 1919 میں ایک واضح مقصد اور وژن کے تحت انجمن کی بنیاد رکھی۔ آج خوشی کی بات یہ ہے کہ نئی نسل بھی اُسی مقصد کے ساتھ انجمن کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھا رہی ہے۔

تعلیم کے فروغ اور بھٹکل سمیت اطراف کے علاقوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے انجمن جو خدمات انجام دے رہی ہے، وہ دراصل قوم کی خدمت اور ملک سے سچی محبت کا ثبوت ہیں۔ حقیقی دیش پریمی وہی ہے جو دیہات اور قصبوں میں، جہاں تعلیمی سہولتیں کم ہوں، وہاں اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کرکے نسلوں کو مضبوط بناتا ہے۔

اگر ہمیں بھارت کو دنیا میں ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو یہ کام صرف اسمبلی، پارلیمنٹ یا ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر احکامات دینے سے ممکن نہیں۔ بھارت اس وقت مضبوط ہوگا جب اس کے طلبہ اور طالبات مضبوط ہوں گے۔ تعلیم کے ذریعے جب نوجوان باصلاحیت اور خوداعتماد بنیں گے، تبھی ملک ترقی کرے گا۔ بھٹکل میں انجمن گزشتہ ایک صدی سے جو تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے، وہ دراصل بھارت کو مضبوط بنانے کا عمل ہے۔

یہ سچ ہے کہ بھٹکل کے لوگ تجارت اور کاروبار میں ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ ماضی میں حالات مختلف تھے، اُس وقت کاروبار ہی ترقی کا بڑا ذریعہ تھا، لیکن آج کا دور بدل چکا ہے۔ اب صرف بزنس کافی نہیں۔ کمیونٹی کو ہر شعبے میں آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں انجینئر، ڈاکٹر، پولیس افسر، وکیل اور آنے والے برسوں میں آئی اے ایس افسران بھی تیار کرنے ہوں گے۔ بڑے اسپتالوں میں انجمن کے تعلیم یافتہ ڈاکٹر نظر آنے چاہئیں اور عدالتوں میں انجمن سے فارغ التحصیل وکلا۔

اسی تناظر میں میں انجمن کے ذمہ داران سے کہنا چاہوں گا کہ انجمن کے پاس زمین بھی ہے، وسائل بھی ہیں اور کمیونٹی میں سرمایہ لگانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ اگر ایک مضبوط آواز دی جائے تو لوگ خود آگے آئیں گے۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ میڈیکل کالج کے ساتھ ساتھ جلد از جلد ایک لاء کالج بھی قائم کیا جائے۔

نفرت سے پاک ملک کی تعمیر کے لیے نفرت سے پاک گھر بنانے ہوں گے زندگی میں کامیابی صرف IQ (Intelligence Quotient) یعنی ذہانت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ EQ (Emotional Quotient) یعنی جذباتی شعور اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انسان کے اندر انسانیت، امن اور بھائی چارگی کا جذبہ ہونا چاہیے۔ آج کے دور میں خودغرضی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسی طرح زندگی میں صحیح راستے پر چلنے کے لیے SQ (Spiritual Quotient) یعنی روحانی شعور اور خدا کا خوف بھی نہایت ضروری ہے۔ جس انسان کے اندر روحانی اقدار اور خدا کا خوف ہوتا ہے، وہ کبھی غلط راستے کا انتخاب نہیں کرتا۔ مجھے پوری اُمید ہے کہ انجمن کے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو IQ، EQ اور SQ—تینوں پہلوؤں میں مضبوط بنانے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ نہ صرف کامیاب پیشہ ور بلکہ اچھے انسان بھی بن سکیں۔

انجمن کے بانیان نے سو سال پہلے یہ سوچ کر ادارہ قائم کیا تھا کہ کمیونٹی کو کہاں پہنچانا ہے، اور الحمدللہ وہ منزل بڑی حد تک حاصل ہوچکی ہے۔ اب ذمہ داری موجودہ ذمہ داران پر ہے کہ اگلے سو سال کا واضح منصوبہ بناکر آگے بڑھیں۔ اگرچہ انجمن پیرامیڈیکل کورس شروع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، لیکن انجمن کو صرف اسی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ آنے والے برسوں میں لاء کالج کا قیام ناگزیر ہے، کیونکہ بھٹکل کے صرف دس فیصد طلبہ ہی مینگلور یا بنگلورو جا کر لاء کی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں، باقی نوّے فیصد کے لیے مواقع محدود رہ جاتے ہیں۔

بھٹکل میں اگر لاء کالج قائم ہوتا ہے تو کاروار سے بیندور تک تمام مذاہب، تمام ذاتوں اور ہر طبقے کے طلبہ کو فائدہ ہوگا۔ اگر یہاں سے سو وکلا بھی نکلتے ہیں تو اس سے سماج میں مثبت اور بڑی تبدیلی آئے گی۔ اسی طرح میڈیکل کالج کے قیام سے نہ صرف ڈاکٹر تیار ہوں گے بلکہ سینکڑوں افراد کو روزگار ملے گا، نئے کاروبار فروغ پائیں گے اور پورا شہر ترقی کرے گا۔

بھٹکل کے لوگوں کے پاس ملک اور بیرونِ ملک—دبئی، سعودی عرب، چین—میں کاروبار ہیں، سرمایہ کی کوئی کمی نہیں، انجمن کے پاس زمین موجود ہے۔ صرف حکومتی اجازت درکار ہے، اور اس سلسلے میں حکومت مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ منی پال جیسے چھوٹے قصبے میں اگر میڈیکل کالج قائم ہو سکتا ہے تو بھٹکل میں یہ کام کہیں زیادہ آسان ہے۔

آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر انجمن میڈیکل اور لاء کالج قائم کرنے کا پختہ ارادہ کرلے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ صرف انجمن یا کمیونٹی ہی نہیں بلکہ پورے سماج اور شہر کے مستقبل کو سنوارنے والا قدم ثابت ہوگا۔

پروگرام کے دوران ڈسٹرکٹ انچارج وزیر منکال وئیدیا، کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ کے وائس چانسلر ڈاکٹر اے ایم خان، شیرور گرین ویلی اسکول کے محمد میراں منیگار، اور شاہین ایجوکیشن فاؤنڈیشن، بیدر کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے بھی اپنے خیالات اور تاثرات پیش کیے۔

تقریب کا آغاز انجمن کے ایک طالب علم کی تلاوتِ کلامِ پاک مع انگریزی ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد طلبہ نے انجمن کا ترانہ اور نعت پیش کیں۔ پروگرام کی صدارت انجمن کے صدر جناب یونس قاضیا نے کی، جبکہ نائب صدر اول  جناب محمد صادق پلور نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ جنرل سکریٹری محمد اسحاق شابندری نے انجمن کا تعارف پیش کرتے ہوئے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، اورنائب صدر دوم  ڈاکٹر زبیر کولا نے کلمۂ تشکر ادا کیا۔ قومی ترانے کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

Click here for report in English


Share: