بھٹکل، 14/ فروری (ایس او نیوز) شہر سے گزرنے والے نیشنل ہائی وے 66 کی توسیع کا معاملہ ایک عرصے سے التوا میں پڑے رہنے کے بعد جیسے ہی تعمیراتی کام کا آغاز ہوا تو نوائط کالونی علاقے میں مُورین کٹے اور بس اسٹینڈ کے پاس موجود ٹیکسی اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا تنازعہ سامنے آگیا۔
مُورین کٹے کا معاملہ فرقہ وارانہ حساسیت کی صورت اختیار کرگیا ہے اور اسے دوسری جگہ منتقل کرنے کے سلسلے میں ایک گروہ اس کٹّے کو مکمل طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے کے بعد ہی ہائی وے کا توسیعی کام شروع کرنے پر زور دے رہا ہے تو دوسرا گروہ موجودہ کٹّے کے قریب ہی دوسری جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے وہیں پر منتقل کرنے کی ضد پر اڑا ہے۔ اس وجہ سے اس مقام پر ہائی وے کا تعمیراتی کام جلد شروع ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
دوسری طرف بس اسٹینڈ کے پاس موجود ٹیکسی اسٹینڈ پر گاڑیاں کھڑی کرنے والے مالکان اور ڈرائیوروں کی یونین کا کہنا ہے کہ جب تک مناسب متبادل جگہ فراہم نہیں کی جاتی تب تک ٹیکسیاں وہاں سے نہیں ہٹائی جائیں گی۔ اس طرح یہاں بھی ہائی وے کا کام آگے بڑھانے میں رکاوٹ کھڑی ہوگئی ہے۔
اس پس منظرمیں ضلع ڈپٹی کمشنرلکشمی پریا نے بھٹکل پہنچ کر موڈ بھٹکل، ٹیکسی اسٹینڈ، مورین کٹّے، کائکینی بستی جیسے علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا۔
اس سے قبل ڈی سی نے تحصیلدار کے دفتر میں نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے افسران، ٹھیکیدارکمپنی آئی آر بی کے ذمہ داران، مختلف طبقات اور اداروں کے لیڈران کے ساتھ میٹنگ منعقد کی اور درپیش مسائل کا احوال سنا۔
اس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو تین مقامات پر نیشنل ہائی وے کا کام آگے بڑھانے کی راہ میں مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔ تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی سمت میں کوشش ہو رہی ہے۔ مقررہ وقت میں کام مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تعلق سے انہوں نے تمام لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ آپسی بات چیت سے حل نہیں ہوتا ہے تو قانونی کارروائی کے بارے میں غور کیا جائے گا۔
اس موقع پر تحصیلدار ناگیندرا کولاشیٹی، ہائی وے اتھاریٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شیو کمار، ٹی ایم سی چیف آفیسر وینکٹیش ناوڈا، سی پی آئی دیواکر اور دیگر افسران موجود تھے۔
