بھٹکل، 18 جنوری (ایس او نیوز): سنیچر کی دیر رات پیش آئے المناک سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوانوں کو اتوار کی دوپہر سپردِ خاک کردیا گیا۔ پرانے قبرستان میں انجام پانے والی تدفین اور جامع مسجد میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ میں شہر بھر سے سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 15 سالہ بلال رکن الدین، شیرور کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ایس ایس ایل سی کا طالب علم تھا۔ جب کہ اس کا ماموں زاد بھائی 19 سالہ ایان اکرمی مینگلور کے ایک پرائیویٹ کالج میں سکینڈ ایئر بی سی اے کا طالب علم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ایان اکرمی دسمبر کے پہلے ہفتے میں سمسٹر کی چھٹیوں کے دوران مینگلور سے بھٹکل آیا تھا اور اتوار کی شام یعنی آج واپس مینگلور روانہ ہونے والا تھا تاکہ پیر سے شروع ہونے والی کلاسز میں شرکت کر سکے، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

تفصیلات کے مطابق، ایان اکرمی اپنے پھوپھی زاد بھائی بلال رکن الدین کے ساتھ ایک رشتہ دار کو تینگنگونڈی کراس چھوڑنے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ وہاں سے واپسی کے دوران غالباً دونوں شرالی کی جانب چائے پینے گئے، جہاں اکثر نوجوان رات گئے چائے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ تاہم، گھر واپسی کے سفر کے دوران یہ خوشگوار لمحہ ایک بھیانک حادثے میں تبدیل ہوگیا۔
بتایا گیا ہے کہ وینکٹاپور برج عبور کرنے کے بعد جیسے ہی کار حنیف آباد کراس کے قریب پہنچی، گاڑی بے قابو ہوگئی اور سڑک کنارے اترتے ہوئے انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ ایک بجلی کے کھمبے سے جا ٹکرائی۔ جائے وقوع کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ حنیف آباد کراس پر نیشنل ہائی وے کے دائیں جانب رفتار کم کرنے کے لیے پہلے سے بیریکیڈ نصب ہیں، جبکہ بیریکیڈ سے کچھ فاصلے قبل سڑک کے بائیں جانب تعمیراتی کام بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے پر لائٹس نہ ہونے کے باعث سڑک مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایان اکرمی تیز رفتاری کے ساتھ جب وینکٹاپور برج کراس کرکے آگے بڑھا تو سامنے اچانک بیریکیڈ نظر آنے پر گھبرا گیا۔ گاڑی کو بچانے کے لیے اس نے بائیں جانب موڑنے کی کوشش کی، مگر رفتار بہت زیادہ ہونے کے باعث کار سڑک سے نیچے اتر گئی، ایک پتھر پر چڑھتے ہوئے توازن کھو بیٹھی اور سیدھے بجلی کے کھمبے سے جا ٹکرائی۔

مقامی پولیس کے مطابق، حادثے کے وقت قریب موجود ایک مکینک اس واقعے کا چشم دید گواہ ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ کار انتہائی تیز رفتاری سے آرہی تھی اور حنیف آباد کراس کے قریب پہنچتے ہی اچانک بریک لگانے کی کوشش کی گئی، مگر اسی دوران گاڑی اچھلتے ہوئے سیدھے الیکٹرک کھمبے سے ٹکرا گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس شدت کے ساتھ کار کھمبے سے ٹکرائی اور لوہے کی ایک مضبوط سلاخ جس طرح ٹیڑھی ہو گئی، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گاڑی کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ رہی ہوگی۔
حادثے کے بعد عینی شاہدین نے بتایا کہ کار میں سوار دونوں نوجوانوں نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی، جبکہ بنیادی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے سے حادثے کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے تھے۔ موقع پر موجود سماجی کارکنوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے.
حادثے کے بعد دونوں نوجوانوں کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کی گئیں، جہاں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اتوار کی صبح نعشیں اہل خانہ کے حوالے کی گئیں۔ نمازِ ظہر کے بعد جامع مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جہاں تدفین سے قبل اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب کو آخری دیدار کا موقع دیا گیا۔ بعد ازاں دونوں نوجوانوں کو سپردِ خاک کردیا گیا۔
یہ افسوسناک حادثہ نہ صرف دو گھروں کے چراغ گل کر گیا بلکہ پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کرگیا، ایسے میں نیشنل ہائی وے فور لین کے نامکمل کام ، اندھیرے میں ڈوبی ہوئی سڑکیں اور نیشنل ہائی وے پر رفتار پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کو لے کر پھر ایک بار عوام میں بحث چھڑ گئی ہے اور لوگ شہر کے ذمہ داران کی خاموشی پر پھر ایک بار سوالات کھڑے کررہے ہیں۔
Video: Last rites of two accident victims at Bhatkal Jamia Masjid