ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: دو ماہ بعد منی ودھان سودھا میں آدھار خدمات بحال؛ عوام کو راحت

بھٹکل: دو ماہ بعد منی ودھان سودھا میں آدھار خدمات بحال؛ عوام کو راحت

Wed, 04 Feb 2026 11:24:21    S O News
بھٹکل: دو ماہ بعد منی ودھان سودھا میں آدھار خدمات بحال؛ عوام کو راحت

بھٹکل، 4 فروری (ایس او نیوز): گزشتہ دو سے تین ماہ سے بند پڑا آدھار اندراج اور ترمیمی مرکز، جو بھٹکل تعلقہ ایڈمنسٹریٹو عمارت  یعنی منی ودھان سودھا میں واقع ہے، منگل کے روز دوبارہ شروع ہو گیا، جس سے آدھار سے متعلق امور میں مشکلات کا سامنا کر رہے عوام کو بڑی راحت ملی ہے۔

واضح رہے کہ منی ودھان سودھا میں واقع تعلقہ دفتر میں قائم آدھار کِٹ، منفرد شناختی ادارۂ ہند (یو آئی ڈی اے آئی) کی جانب سے ایک نجی ادارے کو دیا گیا معاہدہ ختم ہونے کے بعد غیر فعال ہو گئی تھی۔ پرائیویٹ مراکز اور ٹائپنگ سینٹروں میں آدھار خدمات بند ہونے کے بعد بھٹکل کے عوام کو مکمل طور پر تعلقہ آفس اور پوسٹ آفس میں واقع سرکاری آدھار مراکز پر انحصار کرنا پڑ گیا تھا، تاہم تکنیکی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں بھی خدمات معطل کر دی گئیں، جس کے باعث عوام کے پاس کوئی متبادل سہولت باقی نہیں رہی۔

اس صورتحال کے سبب عوام کو آدھار میں ترمیم اور اپ ڈیٹ کے لیے بار بار پوسٹ آفس کے چکر لگانے پڑرہے تھے، جس سے مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں کے مستحقین شدید متاثر ہوئے۔ اسکول اور کالج کے طلبہ کو بھی خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ آدھار سے متعلق مسائل کے باعث داخلوں اور دیگر ضروری امور میں تاخیر ہوئی۔

adhar-que-bhatkal-3

اگرچہ مرکزی پوسٹ آفس میں ماہ میں ایک مرتبہ محدود تعداد میں ٹوکن جاری کرکے نئے آدھار یا آدھار میں ترمیم کرنے کی درخواستیں قبول کی جارہی تھی، تاہم ٹوکن حاصل کرنا ہی ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ دیہی علاقوں سے آنے والے افراد طلوع آفتاب سے قبل ہی بغیر کھانا کھائے اور چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہورہے تھے۔ بھیڑ پر قابو پانے کے لیے پولیس عملے کی تعیناتی بھی ناگزیر ہو گئی تھی۔

جوں جوں آدھار سے متعلق مسائل سنگین ہوتے گئے، معاملہ ضلعی انتظامیہ کے نوٹس میں لایا گیا، جبکہ قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے بھٹکل کے رکن اسمبلی اور ڈسٹرکٹ انچارج منسٹر منکال وئیدیا کے علم میں بھی لایا گیا۔ جس پر ضلع ڈپٹی کمشنر نے سرکاری سطح پر مداخلت کرتے ہوئے بھٹکل منی ودھان سودھا میں آدھار خدمات کی بحالی کو یقینی بنایا۔

تاہم عوام کا کہنا ہے کہ منی ودھان سودھا میں آدھار خدمات کی بحالی کے باوجود، لاکھوں کی آبادی پر مشتمل اس تعلقہ میں صرف دو مراکز ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ہر پنچایت دفتر میں آدھار اندراج اور ترمیمی مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ بالخصوص دور دراز دیہات کے لوگوں کو اپنا روزگار اور مزدوری چھوڑ کر شہر کا رخ نہ کرنا پڑے۔

Nagendra-Kolashetty-bhatkal

روزانہ 50 تا 60 ٹوکن جاری کیے جائیں گے
فی الحال تعلقہ میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میپنگ کا عمل جاری ہے، جس کے باعث کئی افراد ووٹر فہرست میں موجود خامیوں کی درستگی سے قبل آدھار میں ترمیم کروا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آدھار اپ ڈیٹ کے کاموں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں تَحْصیلدار ناگیندر کولاشیٹی نے بتایا کہ منی ودھان سودھا میں واقع تعلقہ دفتر کے آدھار مرکز میں روزانہ 50 سے 60 ٹوکن جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فوری ضرورت والے افراد کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، اس کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آدھار کارڈ میں معمولی ترمیمات یو آئی ڈی اے آئی کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن بھی کی جا سکتی ہیں۔

Click here for report in English


Share: