بھٹکل، 12 فروری (ایس او نیوز): قوم و ملت کو درپیش اہم مسائل، بدلتے حالات اور مستقبل کے چیلنجس کا منظم انداز میں جائزہ لینے اور ان کا اجتماعی حل تلاش کرنے کے مقصد سے بھٹکل کے اہم دینی، سماجی اور ملی اداروں کے ذمہ داران پر مشتمل پانچواں بین الجماعتی کانفرنس 17، 18 اور 19 جنوری کو منعقد ہوا تھا۔ اس سہ روزہ اجلاس میں منظور کی گئی 70 تجاویز کو عوام الناس کے سامنے پیش کرنے کے لیے 11 فروری بروز بدھ بعد نماز عشاء نوائط کالونی کی تنظیم ملیہ مسجد میں ایک عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔
قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی سرپرستی میں منعقدہ کانفرنس کے حوالے سے تفصیلات پیش کرتے ہوئے تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے بتایا کہ اجلاس میں اصلاحِ معاشرہ، تعلیم و تربیت، معاشی استحکام، مقامی ملی و سیاسی امور اور دیگر اہم سماجی مسائل جیسے بنیادی موضوعات پر سنجیدہ غور و خوض کیا گیا۔ انہوں نے منظور شدہ تمام 70 تجاویز عوام کے روبرو پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔


اجلاس کا آغاز مولوی محمد شکیب شاہ بندری ندوی کی تلاوتِ کلامِ پاک اور ترجمہ سے ہوا، جب کہ مولوی عمیر سدی باپا ندوی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ پانچویں بین الجماعتی کانفرنس کے کنوینر عتیق الرحمن منیری نے استقبالیہ کلمات میں کانفرنس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور اجتماعی اتحاد و ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر بھٹکل کے قاضی صاحبان مولانا عبدالرب خطیب ندوی اور مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی سمیت جامع مسجد کے خطیب مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے منظور شدہ تجاویز پر سنجیدگی سے عمل کرنے کی تلقین کی۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم مولانا مقبول کوبٹے ندوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ تنظیم کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے صدارت کی۔
بین الجماعتی کانفرنس کا خصوصی ترانہ مولوی زُفیف شنگیری ندوی نے پیش کیا۔ نائب کنوینر محی الدین الطاف کھروری کے کلماتِ تشکر اور جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے صدر مولانا عبدالعلیم قاسمی کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
ذرائع کے مطابق کانفرنس میں منظور کی گئی تجاویز و سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھٹکل کے پانچوں مرکزی اداروں سمیت دیگر اہم اداروں کے جملہ 32 ذمہ داران پر مشتمل ایک بین الجماعتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ آئندہ ہفتہ عشرہ میں اس کونسل کے کنوینر اور نائب کنوینر کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا اور تجاویز کے نفاذ کے لیے عملی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

خواتین کے لیے خصوصی اجلاس
بین الجماعتی کانفرنس کی تجاویز سے خواتین کو آگاہ کرنے کے لیے جمعرات بعد نماز عصر جالی روڈ پر واقع جامعات الصالحات میں ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت جامعات الصالحات (سلطان اسٹریٹ) کی میر معلمہ زینت آپا نے کی، جبکہ جالی روڈ جامعات الصالحات، انجمن پی یو کالج، انجمن ڈگری کالج،الکوثر کالج، علی پبلک پی یو کالج اور شمس پی یو کالج کی پرنسپلز بطور مہمانانِ خصوصی شریک رہیں۔
پروگرام میں شرکت کرنے والی خواتین کے لیے آمد و رفت کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا۔ اندازے کے مطابق 1200 سے زائد خواتین نے اجلاس میں شرکت کی۔
خواتین کے اجلاس میں بھی عتیق الرحمن منیری نے استقبالیہ کلمات پیش کیے، جس کے بعد عبدالرقیب ایم جے ندوی نے منظور شدہ تجاویز کی تفصیلات بیان کیں۔ اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور معروف عالمِ دین مولانا الیاس جاکٹی ندوی نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے خواتین کو معاشرتی اصلاح اور تعمیری سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔