ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں نہیں رکے گی بینگلورو - مڈگاوں وندے بھارت ٹرین

منگلورو میں نہیں رکے گی بینگلورو - مڈگاوں وندے بھارت ٹرین

Sat, 21 Feb 2026 11:49:58    S O News

منگلورو ، 21 / فروری (ایس او نیوز) منگلورو اور بینگلورو کے درمیان گھاٹ سیکشن کی برق کاری تقریباً مکمل ہونے اور دو اچھی قسم کے معیاری اسٹیشنس رہنے کے باوجود ریلوے بورڈ نے انتہائی متوقع وندے بھارت ایکسپریس منگلورو میں اسٹاپ نہ دیتے ہوئے ساحلی شہر کو ایک بڑا جھٹکا دیا ہے ۔

ریلوے بورڈ کی جانب سے ساؤتھ ویسٹرن، سدرن اور کونکن ریلویز کو دی گئی ہدایات کے بعد تیار کردہ عارضی ٹائم ٹیبل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وندے بھارت ٹرین منگلورو شہر میں داخل نہیں ہوگی بلکہ منگلورو سنٹرل اور منگلورو جنکشن دونوں کو بائی پاس کرتے ہوئے  پڈیل سے براہ راست گوا کے مڈگاؤں کی طرف سفر کرے گی ۔

    فی الحال ظاہر کی گئی تجویز کے مطابق یشونت پور- مڈگاؤں وندے بھارت ایکسپریس صبح 6:05 بجے یشونت پور سے روانہ ہوگی اور شام 7:15 بجے مڈگاؤں پہنچے گی ۔ واپسی کی سمت میں یہ ٹرین صبح 5:30 بجے مڈگاؤں سے روانہ ہوگی اور شام 6:40 بجے یشونت پور پہنچے گی ۔

مجوزہ ٹائم ٹیبل کے مطابق یشونت پور سے صبح 6:05 بجے روانہ ہونے والی ٹرین کو 9:10 بجے ہاسن،  9:55 پر سکلیشپور اور دوپہر 12:30 بجے سبرامنیا روڈ پہنچنا ہے ۔ توقع ہے کہ یہ دوپہر 2:00 بجے پڈیل سے گزرے گی اور اپنی آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے 2:40 بجے ٹھوکر کو عبور کرے گا ۔

ریلوے بورڈ کی طرف سے وندے بھارت ایکسپرین کو شہر میں اسٹاپ نہ دینے کی وجہ سے منگلورو سے 4 تا 5 گھنٹے میں بینگلورو پہنچنے کا خواب چکنا چور ہوگیا ۔

سنگل لائن ٹریک اور شراڈی گھاٹ سیکشن کے سخت چیلنجوں کی وجہ سے ٹرین کو یشونت پور سے پڈیل تک پہنچنے میں تقریباً 8 گھنٹے لگیں گے۔

محکمہ ریلوے مطابق اس راستے پر ٹرین کی اوسط رفتار تقریباً 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔ جبکہ چکبانوارا اور ہاسن کے درمیان رفتار کو 110-130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کی تجویز ہے ۔ سکلیشپور- سبرامنیا روڈ گھاٹ کا حصہ 30-40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہے ۔ گھاٹوں کی تکنیکی رکاوٹیں اور سنگل ٹریک پر ٹرین کراسنگ کی ضرورت اہم وقتی چیلنجز کا باعث بنتی رہتی ہے ۔

ریلوے جہد کاروں نے منگلورو کو وندے بھارت کے لئے اسٹاپ نہ دینے کے فیصلے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ ایک مسافر نے کہا "منگلورو جنکشن میں داخل ہونے اور روانہ ہونے میں ٹرین کو صرف 10 منٹ کا اضافی وقت لگتا ہے ۔ چونکہ وندے بھارت کے لیے انجن کو آگے پیچھے کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے وقت کا ضیاع بھی نہیں ہوتا ۔ منگلورو اسٹیشن پر اسٹاپ نہ دینا ایک افسوس ناک فیصلہ ہے ۔"

ایک اور مسافر نے کہا “ریلوے کے وزیر نے منگلورو- بینگلورو سیکٹر کے لیے دو وندے بھارت ٹرینوں کا وعدہ کیا تھا ۔ موجودہ ٹائم ٹیبل کسی اور کو خوش کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے مینگلورو کے لوگوں کے لیے یہ سروس عملی طور پر بیکار ہو گئی ہے ۔”


Share: