نئی دہلی 18 مئی (ایس او نیوز) عمر خالد سے متعلق دہلی فسادات سازش کیس میں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے ہی سابقہ فیصلے پر “سنگین تحفظات” کا اظہار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح انداز میں کہا کہ “ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا”، اور یہ اصول سخت ترین قانون UAPA یعنی غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے معاملات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔
یہ ریمارکس جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل بنچ نے ایک مبینہ “نارکو ٹیرر” کیس میں ملزم سید افتخار اندرابی کو ضمانت دیتے ہوئے دیے۔ عدالت نے کہا کہ کسی ملزم کو برسوں تک ٹرائل کے بغیر جیل میں رکھنا آئینی آزادی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے اپنے ہی فیصلے پر کیوں اٹھایا سوال؟
سپریم کورٹ نے جنوری 2026 کے اس فیصلے پر تحفظات ظاہر کیے جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات کی مبینہ سازش کیس میں ضمانت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ اُس وقت کی دو رکنی بنچ نے 2021 کے ایک اہم اور بڑی بنچ کے فیصلے یونین آف انڈیا بمقابلہ کے اے نجیب کو صحیح طور پر لاگو نہیں کیا۔
2021 کے “کے اے نجیب” فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر ہو اور ملزم برسوں سے قید میں ہو تو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت عدالتیں ضمانت دے سکتی ہیں، چاہے مقدمہ یو اے پی اے جیسے سخت قانون کے تحت ہی کیوں نہ ہو۔
عدالت کے اہم ریمارکس
سپریم کورٹ نے اپنے تازہ فیصلے میں کہا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا، اور یہ اصول سخت ترین قانون UAPA کے معاملات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔
عدالت نے اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ بعض چھوٹی بنچیں بڑی آئینی بنچوں کے فیصلوں کو کمزور کر رہی ہیں، جبکہ عدالتی اصول کے مطابق بڑی بنچ کے فیصلے “قانونِ ارض” یعنی binding precedent ہوتے ہیں۔
عمر خالد کیس کیا ہے؟
عمر خالد پر فروری 2020 دہلی فسادات کی مبینہ “بڑی سازش” میں شامل ہونے کا الزام ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے ان کے خلاف یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ عمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہیں۔
دہلی ہائی کورٹ نے 2022 میں ان کی ضمانت مسترد کردی تھی۔ بعد میں معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں جنوری 2026 میں بھی ان کی ضمانت مسترد کردی گئی۔ اپریل 2026 میں سپریم کورٹ نے ان کی نظرثانی درخواست بھی خارج کردی تھی۔
کیا یہ ریمارکس عمر خالد کیلئے نئی امید ہیں؟
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے تازہ مشاہدات مستقبل میں عمر خالد اور دیگر یو اے پی اے ملزمان کیلئے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے پہلی بار اتنے واضح انداز میں کہا ہے کہ سخت قوانین کے باوجود آئینی آزادی اور جلد سماعت کا حق مقدم ہے۔
اگرچہ عدالت نے عمر خالد کو فوری طور پر ضمانت نہیں دی، لیکن اپنے ہی سابقہ فیصلے پر سوال اٹھانا ایک غیر معمولی عدالتی پیش رفت مانی جا رہی ہے، جس سے یو اے پی اے مقدمات میں ضمانت کے اصول پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
یو اے پی اے پر بڑھتی تنقید
UAPA کو ملک میں دہشت گردی اور ملک مخالف سرگرمیوں کے خلاف سخت قانون سمجھا جاتا ہے، مگر انسانی حقوق تنظیمیں اور قانونی ماہرین طویل عرصے سے اس قانون کے تحت طویل حراست اور ضمانت میں دشواری پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے تازہ ریمارکس کو اسی پس منظر میں ایک اہم عدالتی اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔