ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اشوکا یونیورسٹی معاملہ: سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کی تفتیش پر ظاہر کی برہمی، جانچ کے طریقۂ کار پر سوالات

اشوکا یونیورسٹی معاملہ: سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کی تفتیش پر ظاہر کی برہمی، جانچ کے طریقۂ کار پر سوالات

Wed, 16 Jul 2025 17:10:38    S O News

نئی دہلی، 16 /جولائی (ایس او نیوز /پی ٹی آئی)سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ہریانہ ایس آئی ٹی کی اُس تفتیشی سمت پر سوال اٹھایا جو انہوں نے آپریشن سندور پر سوشل میڈیا پوسٹوں کے معاملے میں اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کے خلاف اختیار کی تھی، اور کہا کہ "ایسا لگتا ہے انہوں نے خود کو غلط سمت میں ڈال لیا ہے۔جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئملیا بگچی پر مشتمل بنچ نے ہریانہ ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ صرف درج شدہ دو ایف آئی آرز کے دائرے میں رہتے ہوئے سوشل میڈیا پوسٹوں کا جائزہ لے اور دیکھے کہ کیا واقعی کوئی جرم بنتا ہے، اور اس بارے میں چار ہفتے میں رپورٹ پیش کرے۔

جسٹس کانت نے کہا کہ پوچھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی خود کو، بظاہر، غلط سمت میں کیوں لے گئی ہے؟ ان کا کام تو صرف پوسٹوں کے مواد کا جائزہ لینا تھا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ تفتیش میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی لیکن موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کی ضبطی پر سوالات ضرور ہیں۔بنچ نے کہا کہ ایس آئی ٹی کو یہ اختیار ہے کہ وہ کہہ سکتی ہے کہ ایف آئی آرز کے مواد میں کوئی جرم نہیں بنتا اور کیس بند ہو سکتا ہے۔ یا وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ تفتیش کے دوران انہیں کوئی ایسا مواد ملا ہے جو الگ جرم بنتا ہو تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

سینئر وکیل کپل سبل، جو محمودآباد کی طرف سے پیش ہوئے، نے کہا کہ عدالت کی ہدایت کے باوجود ایس آئی ٹی نے غیر ضروری تفتیش کی اور ضبط شدہ آلات کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا۔سبل نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق فرانزک رپورٹ مل گئی ہے لیکن اس کے تجزیے کے لیے دو ماہ اور درکار ہیں۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ تفتیش ایس آئی ٹی کا اختیار ہے اور ملزم تفتیش کی شرائط طے نہیں کر سکتا۔اس پر جسٹس کانت نے پوچھاکہ آپ کو تو بس پوسٹوں کا جائزہ لینا تھا کہ کیا کوئی الفاظ یا اصطلاحات ایف آئی آر میں درج الزامات کے مطابق جرم بنتی ہیں۔ اس کے لیے نہ انہیں چاہیے تھا، نہ ڈکشنری، نہ ہی ان کے گیجٹس۔ ہم جاننا چاہتے ہیں یہ آلات کس مقصد کے لیے ضبط کیے گئے؟

جب راجو تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو عدالت نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایس آئی ٹی سربراہ کو بلا کر خود پوچھیں گے۔سبل نے کہا کہ یہ پوسٹیں حب الوطنی کے جذبات سے لبریز ہیں اور کوئی بھی انہیں دیکھ کر یہی رائے دے گا۔راجو نے کہا کہ یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں اور بھی تو کوئی مواد نہیں، آلات کا جائزہ لینا ضروری تھا۔عدالت نے کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ ایس آئی ٹی نے خود کو غلط سمت میں ڈال لیا ہے، حالانکہ عدالت نے 28 مئی کے حکم میں واضح ہدایت دی تھی۔چونکہ محمودآباد تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں، عدالت نے کہا کہ انہیں دوبارہ طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔عدالت نے کہا کہ اس تفتیش کو صرف دو دن لگنے چاہیے تھے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیاکہ یہ دو سوشل میڈیا پوسٹیں اور دو ایف آئی آرز کا معاملہ ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کون سا جملہ یا لفظ جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ یہی کام ایس آئی ٹی کو کرنا ہے۔عدالت نے محمودآباد پر 21 مئی کو لگائی گئی ضمانتی شرط میں نرمی کرتے ہوئے انہیں اس کیس کے علاوہ دیگر معاملات پر اظہارِ رائے کی اجازت دے دی۔یاد رہے کہ 28 مئی کو عدالت نے کہا تھا کہ ان کے اظہار رائے کے حق پر کوئی پابندی نہیں مگر زیر سماعت کیس پر وہ کچھ شائع نہیں کریں گے۔

عدالت نے تین رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی تاکہ وہ صرف درج شدہ دو ایف آئی آرز کی تفتیش کرے۔ہریانہ پولیس نے 18 مئی کو علی خان محمودآباد کو گرفتار کیا تھا۔الزام ہے کہ آپریشن سندور پر ان کے سوشل میڈیا پوسٹس سے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا۔دو ایف آئی آرز ایک ہریانہ خواتین کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیا کی شکایت پر اور دوسری ایک دیہات کے سرپنچ کی شکایت پر— رائے پولیس اسٹیشن، سونی پتمیں درج کی گئی تھیں۔

محمودآباد کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا کی دفعات 152، 353، 79 اور 196 (1) اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔کئی سیاسی جماعتوں اور ماہرین تعلیم نے اس گرفتاری کی مذمت کی تھی۔


Share: