نئی دہلی ، 21/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی ) سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش ریاستی الیکشن کمیشن کو بدھ (21 اکتوبر) کو حکم دیا کہ وہ ریاست میں ہونے والے شہری بلدیاتی انتخاب کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست 25 اکتوبر تک شائع نہ کرے۔ واضح رہے کہ یہ حتمی فہرست آج جاری کی جانی تھی۔ جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا کی تعطیلاتی بنچ نے کہا کہ ’’وائی ایس جگن موہن ریڈی کی قیادت والی وائی ایس آر سی پی نے عدالت کو بتایا کہ اس کے کئی امیدواروں کو تقریباً 100 شہری بلدیاتی اداروں کے انتخاب کے لیے نامزدگی کے کاغذات جمع کرانے سے روکا گیا تھا۔‘‘
عدالت نے ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ وائی ایس آر سی پی اور دیگر امیدواروں کی ان شکایات پر غور کرے جن میں انہوں نے متعلقہ ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے سے روکا گیا تھا۔ عدالت نے کمیشن کو کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ میں توسیع سے متعلق جمعرات تک فیصلہ لینے کی بھی ہدایت دی۔ بنچ نے ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو انتخاب لڑ رہے امیدواروں اور انتخابی دفاتر کو مناسب سیکورٹی مہیا کرانے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی کہا کہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنا آزادانہ اور منصفانہ انتخاب کا ایک اہم پہلو ہے۔
بنچ نے ریاستی الیکشن کمیشن سے یہ یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کو بھی کہا کہ وائی ایس آر سی پی اور دیگر امیدواروں کو ریاست میں آزادانہ اور منصفانہ انتخاب ہونے کے حوالے سے کوئی اندیشہ نہ رہے۔ دراصل وائی ایس آر کانگریس نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر شکایت کی تھی کہ اپوزیشن کے امیدواروں کو تشدد کے ذریعہ پرچۂ نامزدگی داخل کرنے سے روکا گیا ہے۔ اگر ابھی الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کرنے دی گئی تو 63 فیصد امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا جائے گا۔
اس سے قبل وائی ایس آر سی پی کے ریاستی جنرل سکریٹری ایل اپّی ریڈی نے ریاستی الیکشن کمشنر سے اپیل کی کہ وہ بلدیاتی انتخاب کے دوران وائی ایس آر سی پی امیدواروں کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے تشدد میں فوری مداخلت کریں۔ انہوں نے متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے ذمہ دار ٹی ڈی پی لیڈران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کُپّم میں وائی ایس آر سی پی کے چیئرمین عہدہ کے امیدوار وجے کمار کو ان کے ڈی کے پلّی واقع گھر سے اغوا کر لیا گیا ہے۔