الٰہ آباد، 26 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں کم عمر ملزم کو بالغ کے بجائے نابالغ مانتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی ہے۔ عدالت نے کریمنل نظرثانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے جووینائل جسٹس بورڈ اور کاوشامبی پوکسو عدالت کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا کہ آج کے نوجوانوں پر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا جیسے بصری ذرائع کا جو منفی اثر پڑ رہا ہے، اس پر حکومت قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ 'نربھیا کیس' ایک غیر معمولی معاملہ تھا، اور ہر نابالغ کو بالغ کے طور پر ٹریٹ کرنا درست نہیں جب تک اس کے سماجی و نفسیاتی اثرات کا مکمل تجزیہ نہ کیا جائے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بورڈ اور پوکسو عدالت نے ملزم کو بالغ مانتے ہوئے مقدمہ شروع کیا، حالانکہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ اور ماہر نفسیات کی رائے میں واضح کیا گیا تھا کہ لڑکے کی ذہنی صلاحیت میں معمولی کمی ہے۔ اس کے باوجود بورڈ نے ایف آئی آر اور متاثرہ کے بیان کو بنیاد بنا کر ماہرین کی رپورٹ کو نظر انداز کر دیا۔
ریاست کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ بورڈ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اسے لگے کہ ملزم کو اپنے عمل کے نتائج کا علم تھا، تو وہ ماہر کی رائے کو نہ مانے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ ملزم ماضی میں کسی جرم میں ملوث رہا ہو یا آئندہ کسی سنگین جرم کا امکان ہو۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ جرم سنگین ہے، کسی نابالغ کو بالغ قرار دینا درست نہیں۔ جب کہ نفسیاتی رپورٹ، سماجی معلومات اور سابقہ ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم کو نابالغ مانا جانا چاہیے۔
عدالت نے دونوں نچلی عدالتوں کے فیصلے منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزار کو جووینائل جسٹس بورڈ کے روبرو نابالغ کے طور پر مقدمے کا سامنا کرنے کی ہدایت دی ہے۔