پٹنہ ، 30 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی): کانگریس کی جانب سے چلائی جا رہی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کے دوران بہار کے شہر آرہ میں ایک شاندار عوامی جلسہ منعقد ہوا جس میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی صدر و سابق وزیراعلیٰ اتر پردیش اکھلیش یادو اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے مشترکہ طور پر خطاب کیا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد کی موجودگی میں اپوزیشن لیڈران نے بی جے پی حکومت پر ’’ووٹ چوری‘‘ کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے عوام سے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی اپیل کی۔
جلسہ عام میں سب سے پہلے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے وزیر اعظم مودی کو سخت نشانے پر لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بہار میں ووٹ کی چوری ہو رہی ہے؟ جس پر ہجوم کی جانب سے تائیدی نعرے بلند ہوئے۔ تیجسوی نے کہا کہ ’’گجرات سے آئے دو لوگ یہ طے نہیں کر سکتے کہ بہار میں کون ووٹ دے گا اور کون نہیں۔‘‘ انہوں نے موجودہ حکومت کو ’’نقلچی حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی وژن نہیں، وہ صرف آر جے ڈی کے منصوبوں کی نقل کرتے ہیں۔ تیجسوی نے روزگار، تعلیم، کسانوں اور صنعت کاری جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ بہار کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہوگی۔
اس کے بعد سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار کا انتخاب محض ایک ریاستی انتخاب نہیں بلکہ پورے ملک کی سمت طے کرنے والا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’جس طرح اودھ کے عوام نے بی جے پی کو ہرایا، اب بہار کے عوام بھی بی جے پی کو باہر کا راستہ دکھائیں گے۔‘‘ اکھلیش نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ اب ’’الیکشن کمیشن‘‘ نہیں بلکہ ’’جُگاڑ کمیشن‘‘ بن گیا ہے جو بی جے پی کے اشارے پر چل رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کی بدحالی نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، اور اب نوجوانوں اور کسانوں کو اپنی طاقت کا استعمال ووٹ کے ذریعے کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کہا کہ ’’بہار سے بی جے پی کی ہجرت طے ہے‘‘ اور اس جدوجہد کو صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی حقِ رائے دہی کی تحریک قرار دیا۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ لڑائی صرف ووٹ کی نہیں بلکہ عوام کے حق اور مستقبل کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے روزگار کے مواقع چھین کر سب کچھ چند بڑے صنعت کاروں کے حوالے کر دیا ہے۔ فوج میں بھرتی اور پبلک سیکٹر کے روزگار بند کر دیے گئے ہیں اور نوجوان مایوسی میں دھکیل دیے گئے ہیں۔
راہل نے کہا کہ ’’یہ صرف ووٹ چوری نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ اگر ووٹ کا حق بچا تو ہی جمہوریت بچے گی اور اگر جمہوریت بچے گی تو ہی آئین محفوظ رہے گا۔‘‘ انہوں نے تیجسوی یادو اور اکھلیش یادو کی موجودگی کو اپوزیشن کی یکجہتی کا مضبوط پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب مل کر بہار کو بی جے پی کی چالوں سے بچائیں گے۔
اس موقع پر اپوزیشن کی یکجہتی نمایاں طور پر سامنے آئی۔ جلسہ گاہ میں بارہا ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے لگے اور عوامی جوش و خروش سے یہ ظاہر ہوا کہ ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔