نئی دہلی، 15؍ جون (ایس او نیوز / ایجنسی) ایئر انڈیا کے بوئنگ 787؍ ڈریم لائنر طیارہ حادثہ میں 270؍ افراد کی ہلاکت کے بعد ہندوستانی حکومت اور ایوی ایشن ریگولیٹر نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں چلنے والے تمام بوئنگ 787؍ طیاروں کی جامع جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ اس ہدایت کا مقصد حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانا اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ملک میں اس وقت 34؍ بوئنگ 787؍ طیارے موجود ہیں، جن میں سے 8؍ کی جانچ مکمل ہو چکی ہے، جب کہ باقی کی تیزی سے جانچ کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایئر انڈیا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے 787-8؍ اور 787-9؍ طیاروں، جن میں جین ایکس (GEnx) انجن نصب ہیں، کی اضافی تکنیکی جانچ کرے۔ اس جانچ میں ٹیک آف کے وقت کے مخصوص تکنیکی پیرامیٹرز، انجن کے الیکٹرانک کنٹرول ٹیسٹ اور ایندھن سے متعلق تفصیلات کا جائزہ شامل ہوگا۔
جمعرات کو پیش آئے افسوسناک حادثے میں لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ جانے والا ایئر انڈیا کا ڈریم لائنر ٹیک آف کے فوراً بعد بلندی کھونے لگا اور زمین پر موجود عمارتوں سے ٹکرا گیا۔ طیارے میں 242؍ افراد سوار تھے، جن میں سے صرف ایک ہی شخص زندہ بچ سکا۔ طیارہ احمد آباد کے بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے ٹکرا کر آگ کے گولے میں تبدیل ہو گیا، جس کے نتیجے میں اب تک 270؍ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ یہ حالیہ دہائی کا بدترین فضائی حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایوی ایشن حکام کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں طیارے کے انجن تھرسٹ، فلیپس کی پوزیشن، اور ٹیک آف کے دوران لینڈنگ گیئر کے کھلے رہنے جیسے امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ایئر انڈیا نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ ریگولیٹر کی ہدایات کے مطابق طیاروں کی جانچ جاری ہے، تاہم اس عمل کے دوران کچھ طویل پروازوں میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ابھی تک طیاروں کو گراؤنڈ نہیں کیا گیا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق حکومت اس امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔
اس وقت ایئر انڈیا کے بیڑے میں 33؍ بوئنگ 787؍ طیارے شامل ہیں، جبکہ انڈیگو کے پاس اس ماڈل کا صرف ایک طیارہ ہے، تاہم انڈیگو نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔