ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / احمد آباد طیارہ حادثہ: ہندوستان کی ہوابازی کی تاریخ کا بدترین المیہ، 297 افراد ہلاک، واحد زندہ بچ جانے والے کی روداد، سیاسی ردعمل اور قسمت کے کھیل کی داستانیں

احمد آباد طیارہ حادثہ: ہندوستان کی ہوابازی کی تاریخ کا بدترین المیہ، 297 افراد ہلاک، واحد زندہ بچ جانے والے کی روداد، سیاسی ردعمل اور قسمت کے کھیل کی داستانیں

Sat, 14 Jun 2025 10:45:02    S O News
احمد آباد طیارہ حادثہ: ہندوستان کی ہوابازی کی تاریخ کا بدترین المیہ، 297 افراد ہلاک، واحد زندہ بچ جانے والے کی روداد، سیاسی ردعمل اور قسمت کے کھیل کی داستانیں

احمد آباد، 14 جون (ایس او نیوز): احمد آباد میں 12 جون کو پیش آیا ایئر انڈیا کا طیارہ حادثہ ہندوستان کی ہوابازی کی تاریخ کا بدترین سانحہ بن گیا ہے، جس میں اب تک 297 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ لندن کے لیے روانہ ہونے والا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارہ پرواز کے دو منٹ بعد ہی رہائشی علاقے میں واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں طیارے کے 242 میں سے 241 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ عمارت میں موجود 56 افراد کی بھی جان چلی گئی۔

واحد زندہ بچ جانے والے کی سنسنی خیز روداد: طیارے میں سوار واحد زندہ بچ جانے والے، وشواس کمار رمیش، اس وقت احمد آباد کے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طیارہ جیسے ہی بلند ہوا، چند ہی سیکنڈز بعد جہاز میں غیر معمولی کیفیت محسوس ہوئی، اور پھر زور دار دھماکے کے ساتھ طیارہ ایک عمارت سے ٹکرا گیا۔ وشواس کے مطابق، ’’میری سیٹ جہاز کے اس حصے میں تھی جو براہ راست دیوار سے نہیں ٹکرایا۔ آنکھ کھلتے ہی میں نے خود کو آگ اور دھوئیں کے درمیان پایا۔ سیٹ بیلٹ کھول کر میں نکلنے کی کوشش کی، اور سیٹ سمیت نیچے جا گرا، جو شاید میری زندگی بچنے کی بڑی وجہ بنی۔‘‘ ان کے بائیں ہاتھ کو شدید زخم آئے، مگر وہ کسی طرح پیدل چلتے ہوئے ایک ایمبولینس تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

جہاز میں لگنے والی آگ اور 1000 ڈگری درجہ حرارت: فائر بریگیڈ کے افسران کے مطابق، حادثے کے فوراً بعد طیارے کے ایندھن کے پھٹنے سے شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں درجہ حرارت 1000 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ اتنی زیادہ گرمی کے باعث نہ صرف انسانی جانیں ضائع ہوئیں، بلکہ قریبی علاقے میں موجود پرندے اور جانور بھی لمحوں میں جل کر خاک ہو گئے۔ ایس ڈی آر ایف افسران نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ریسکیو آپریشن میں بھی سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

قسمت کے کھیل: کوئی بچ گیا، کوئی بچ نہ سکا: اس حادثے میں کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے جنہوں نے قسمت کے اثرات پر لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ بھروچ کی رہنے والی بھومی چوہان کو بھی اسی طیارے میں سوار ہونا تھا، لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے وہ 10 منٹ تاخیر سے ایئرپورٹ پہنچیں اور فلائٹ میں سوار نہ ہو سکیں۔ اس تاخیر نے ان کی جان بچا دی۔ وہ خود کہتی ہیں کہ ’’پہلے افسوس ہوا کہ فلائٹ چھوٹ گئی، لیکن اب لگتا ہے کہ قدرت نے مجھے نئی زندگی عطا کی۔‘‘

دوسری طرف، اندور کی ہرپریت کور ہورا کو اصل میں 19 جون کو لندن روانہ ہونا تھا، مگر شوہر کے یومِ پیدائش کے پیش نظر انہوں نے 12 جون کی فلائٹ لی اور اس حادثے کا شکار ہو گئیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق، ہرپریت بنگلورو کی ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں اور چند دنوں کے لیے احمد آباد آئی تھیں۔

سیاسی ردعمل: امت شاہ پر کانگریس کی سخت تنقید: حادثے پر وزیر داخلہ امت شاہ کے اس بیان کہ "یہ حادثہ تھا اور حادثے کو روکا نہیں جا سکتا" پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ "ایسے وقت میں جب قوم سوگ میں ہے، وزیر داخلہ کو ذمہ داری کی بات کرنی چاہیے تھی، نہ کہ قسمت کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔" جے رام رمیش نے بھی امت شاہ کے بیان کو غیر حساس اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں، اور اگر کہیں تکنیکی کوتاہی یا انسانی غلطی پائی جائے، تو متعلقہ اداروں اور افسران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے حادثے میں زندہ بچ جانے والے وشواس کمار رمیش سے اسپتال میں ملاقات کی اور ان کے حوصلے کو سراہا۔ ساتھ ہی، حکومت ہند نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو حادثے کے اسباب—چاہے وہ تکنیکی ہوں یا انسانی غلطی—کا جائزہ لے گی۔

یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، جس نے ہوابازی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔


Share: