ممبئی ،16 / ستمبر (ایس او نیوز) سن 2006 میں ممبئی کے سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کے بعد گرفتاری اور پھر تقریباً 9 سال تک جیل میں بند رہنے کے بعد سن 2015 میں عدالت کی طرف سے تمام الزامات سے باعزت کیے گئے واحد شیخ نے دوران قید ان پر کیے گئے تشدد کے لئے اب 9 کروڑ روپے کا ہرجانہ طلب کیا ہے ۔
خیال رہے کہ بدنام زمانہ 7 جولائی 2006 کے ٹرین بم دھماکوں کے فوری بعد 12 دیگر ملزمین کے ساتھ گرفتار شدہ افراد میں واحد شیخ تنہا نوجوان تھا جسے عدالت نے دوران سماعت تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا تھا ۔ اس کے بعد دس سال تک انہوں نے اس کیس کے دیگر ملزمان کی رہائی کے لیے مہم چلائی اور 19 سال کی قید کے بعد حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے بقیہ تمام ملزمین کو بھی ٹرین دھماکوں کے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے ۔
سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے کیس میں تمام الزامات سے بری ہونے کے ایک دہائی بعد واحد دین محمد شیخ نے جن کی عمر اب 46 سال ہو گئی ہے، اپنی طویل قید اور اس دوران ہوئے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے لئے کا معاوضہ طلب کرتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) سے رجوع کیا ہے ۔
واحد شیخ نے ہرجانہ طلب کرنے کرنے کے لئے این ایچ آر سی کے ساتھ اپنی شکایت مہاراشٹر اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن، مہاراشٹر اسٹیٹ مائناریٹی کمیشن اور قومی اقلیتی کمیشن کو بھی بھیج دی ہے ۔
اپنی شکایت میں واحد شیخ نے اس سنگین ناانصافی پر روشنی ڈالی ہے جو اس کے اور ان کے خاندان کے ساتھ کی گئی تھی - حراست میں کیے جانے والے تشدد اور سماجی و نفسیاتی سطح پر "دہشت گرد" کہے جانے کا جو بھاری بوجھ انہیں اتنے عرصے تک اٹھانا پڑا ہے اس کے لئے اور جھوٹے الزامات کے تحت پھنسانے کی وجہ سے سلاخوں کے پیچھے گزرے ہوئے ہر ایک سال کے لئے ایک کروڑ روپے کے حساب سے 9 کروڑ روپے معاوضہ کی شکل میں طلب کیے ہیں ۔
سلسلہ وار ٹرین دھماکوں کے بعد جب ممبئی کے مضافات وکھرولی میں رہنے والے واحد شیخ کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت وہ بائیکلّہ کے ایک اسکول میں ٹیچر کی خدمات انجام دے رہے تھے ۔ عدالت سے باعزت رہائی کے بعد واحد نے دوبارہ کام شروع کیا لیکن ساتھ ہی قانون کی ڈگری بھی حاصل کی اور حال ہی میں انہیں ہندوستان میں جیلوں کی تاریخ پر اپنے مقالے کے لیے پی ایچ ڈی سے بھی نوازا گیا ہے ۔
سال 2015 میں اپنی رہائی کے بعد واحد شیخ نے ایک دہائی تک خاموشی اختیار کی اور اپنے دیگر ساتھی ملزمین کے بری اور رہا ہونے کا انتظار کیا ۔
اب وہ اس معاملے کے احتساب کے لیے اپنی لڑائی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ "میری طرح یہ سب بے گناہ آدمی ہیں، لیکن ان کی لڑائی مجھ سے زیادہ دیر تک جاری رہی ۔ اس لیے میں ان کی رہائی کی وکالت پر پوری توجہ مرکوز کرتا رہا ۔ اب جب کہ وہ سب رہا ہو چکے ہیں، تو میں اپنی غلط گرفتاری اور تشدد کے لیے انصاف مانگنا چاہتا ہوں ۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ پورا کیس جعلسازی پر منحصر تھا، اس لیے میرا معاوضہ طلب کرنا اور بھی زیادہ جائز اور ضروری ہو گیا ہے ۔"
واحد شیخ نے جو شکایت نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور دیگر اداروں کو بھیجی ہے اس میں ان کے ساتھ کیے گئے وحشیانہ حراستی تشدد کی تفصیلات بیان کی ہے جسے اُس وقت برداشت کرنا پڑا تھا اور رہائی کے بعد بھی جس کے مضر اور نقصان دہ اثرات سے انہیں گزرنا پڑ رہا ہے ۔ مسلسل جسمانی درد، گلوکوما اور دیگر طبی مسائل درپیش ہیں اور اس کے لیے مسلسل طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔
شیخ کا کہنا ہے کہ خاندانی اور گھریلو محاذ پر بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ جیل میں تھے ۔ ان کی ماں کی ذہنی صحت بگڑ گئی اور ان کی بیوی کو مالی بربادی اور سماجی بدنامی کے درمیان اکیلے ہی اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کرنی پڑی ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’’میرے بچے 'دہشت گرد کے بچے' کہلانے کے داغ کے ساتھ پلے بڑھے اور اپنے ابتدائی سالوں میں اپنے والد کی موجودگی سے محروم رہے ۔ میرے خاندان کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس میں طبی اور رہائشی اخراجات کے لیے تقریباً 30 لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا ۔ میرا کیرئیر اور تعلیم پٹری سے اتر گئی ۔"
واحد کے بقول "میں نے ایک استاد کے طور پر دوبارہ زندگی کا آغاز کیا، مگر اب بھی اپنے اوپر لگے غلط الزام کے بوجھ تلے دبا ہوں ۔جھوٹے مقدمے میں پھنسائے جانے سے میں نے اپنی جوانی کے سب سے اہم سال، اپنی آزادی اور اپنا وقار کھو دیا، اور کوئی بھی رقم میرے وہ کھوئے ہوئے نو سال واپس نہیں کر سکتی اور نہ ہی یہ میرے پیاروں کے درد کو ختم کر سکتی ہے ۔ لیکن معاوضہ اس بات کو تسلیم کروانے کا ایک طریقہ ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ غلط تھا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئی اور بے گناہ اس طرح کی صورتحال کا شکار نہ ہو جس طرح مجھے شکار بنایا گیا تھا ۔"
اپنی شکایت میں شیخ واحد نے مزید کہا ہے کہ ریاست سے معاوضہ کے طور پر 9 کروڑ روپے کے ان کے مطالبے کو کسی بھی طرح سے "خیرات" کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے، بلکہ اسے ان کے ساتھ کی گئی "سنگین ناانصافی کی پہچان" کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
واحد نے اپنی شکایت میں نے اپنے معاملے اور مطالبے کے لئے ایرو اسپیس سائنس دان نمبی نارائنن کی شکایت پر این ایچ آر سی کی طرف سے 2018 میں دئے گئے فیصلے پر انحصار کیا ہے، جس میں اسرو سے وابستہ اس سائنسدان کو دیگر افراد کے ساتھ جاسوسی کے جھوٹے معاملے میں غیر قانونی طور پر قید میں رکھنے پر این ایچ آر سی نے کیرالہ حکومت کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم سنایا تھا ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کی طرف سے تمام ملزمین کو باعزت بری کرنے کے فیصلے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر تو کی ہے مگرعدالت عظمیٰ نے بری قرار دئے گئے افراد کو واپس جیل بھیجنے سے انکار کر دیا ۔ اور جب تک ریاست کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی، عدالت عظمیٰ نے اب ہائی کورٹ کے فیصلے پر اس حد تک روک لگانے کا حکم دیا ہے کہ اسے مکوکا کے دیگر معاملات کے لئے مثال نہیں مانا جائے گا ۔