انکولہ، 24 / جنوری (ایس او نیوز) حال ہی میں کیرالہ کی ایک بس میں سفر کے دوران ایک شخص کا ہاتھ نامناسب انداز میں خاتون کے جسم سے چھو جانے کی جو ویڈیو کلپ وائرل ہوئی تھی اور اس کے بعد شرمندگی کی وجہ سے متعلقہ شخص کی خود کشی کا جو واقعہ پیش آیا تھا کچھ ایسا ہی خودکشی کا معاملہ اتر کنڑا کے انکولہ تعلقہ میں پیش آیا ہے ۔
اپنے ہی گھر کے آنگن میں تلسی کٹے کے پاس بیٹھ کر اپنی ڈبل بیرل بندوق سے خود کو گولی مارتے ہوئے خودکشی کرنے ولے شخص کی شناخت انکولہ تعلقہ کے ہٹی کیری کے رہنے والے راجیو پیکلے (67 سال) کے طور پر کی گئی ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ راجیو پیکلے کاروار میں واقع اپنے بھائی ڈاکٹر نیتن کے 'پیکلے ہاسپٹل' میں فارمیسی انچارج تھا ۔ کچھ دن قبل اسپتال میں داخل ایک مریض کو استعمال کی مدت (ایکسپائری ڈیٹ) گزری ہوئی دوا دینے کے تعلق سے مریض کے رشتے دار نے ویڈیو کلپ بنائی تھی جب وہ ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر وائرل کی گئی تو راجیو پکلے نے بھول ہو جانے کی بات کہتے ہوئے عوام سے معافی مانگی تھی ۔
سمجھا جاتا ہے کہ کئی دہائیوں سے فارمیسی کی ذمہ داری سنبھالنے والے راجیو نے ایک چھوٹی سی بھول کی بنیاد پر سوشیل میں ہو رہی اپنی رسوائی کو زیادہ شدت سے محسوس کیا اور اسی وجہ سے اس نے خود کشی کر لی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ صبح کے وقت گھر کی ملازمہ جب راجیو پکلے کے گھر پہنچی تو آنگن میں خون میں لت پت لاش دیکھی تھی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر معائنہ ۔ گھر کے اندر پولیس کی تلاشی کے دوران ملے ہوئے ڈیتھ نوٹ میں اس نے صاف لکھا ہے کہ "اپنی موت کے لئے کوئی دوسرا نہیں بلکہ میں خود ہی ذمہ دار ہوں ۔" پولیس کی طرف سے اس معاملے کی مزید تحقیقات کے بعد ہی خود کشی کی اصل وجوہات سامنے آ سکتی ہیں ۔
خودکشی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ضلع ایس پی دیپن ایم این نے جائے وقوع پر پہنچ کر جائزہ لیا اور اس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے ایسا لگتا ہے کہ راجیو نے اپنی گن سے گولی مار کر خودکشی کی ہے ۔ اسی کے ساتھ کچھ دن پہلے مدت گزری ہوئی دوائی دینے کا جو تنازعہ کھڑا ہوا تھا اس تعلق سے تحقیقات کی جا رہی ہے ۔