ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / مینگلورو: سائبر کرائم کی نئی لہر؛ آدھار اور بائیو میٹرک کے غلط استعمال سے بینک کھاتوں سے نکالی جارہی ہیں رقومات

مینگلورو: سائبر کرائم کی نئی لہر؛ آدھار اور بائیو میٹرک کے غلط استعمال سے بینک کھاتوں سے نکالی جارہی ہیں رقومات

Mon, 08 Dec 2025 17:26:48    By: I G Bhatkali
مینگلورو: سائبر کرائم کی نئی لہر؛ آدھار اور بائیو میٹرک کے غلط استعمال سے بینک کھاتوں سے نکالی جارہی ہیں رقومات

مینگلورو، 8 دسمبر (ایس اونیوز)  سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پانے کے لیے پولیس محکمے کی جانب سے بیداری مہم چلانے اور احتیاطی ہدایات دئیے جانے کے باوجود فراڈ اور آن لائن جعلسازی میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ  ناخواندہ افراد سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد ہی اس فراڈ کا زیادہ  شکار ہو رہے ہیں، جو عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق روز بروز سامنے آنے والے سائبر فراڈ کے واقعات میں لاکھوں اور بعض معاملات میں کروڑوں روپیوں کا دھوکہ کھانے  والے افراد کی بڑی تعداد تعلیم یافتہ ہے۔ آن لائن دھوکہ دہی میں ملوث گروہ جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے صارفین کے بینک کھاتوں سے رقم چرانے کے نت نئے طریقے آزما رہے ہیں۔

آدھار اور بائیو میٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال پر سنجیدہ خدشات

سائبر مجرموں کے لیے صارفین کے آدھار نمبر، بائیو میٹرک ڈیٹا اور بینک اکاؤنٹس سے منسلک موبائل نمبر تک رسائی آسان بن چکی ہے، جس کے ذریعے بڑی مقدار میں رقم غائب کیے جانے کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری سہولیات کے حصول، بینکنگ خدمات، موبائل سم کی خریداری اور عام عوامی مراکز میں بائیو میٹرک کے استعمال کے باعث فنگر پرنٹس محفوظ رہنے کے بجائے لیک ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آدھار بائیو میٹرک ڈیٹا ہیک ہوجائے تو صرف مالی نقصان ہی نہیں بلکہ کسی فرد کی ذاتی شناخت بھی غلط ہاتھوں میں پہنچ سکتی ہے۔سائبر ایکسپرٹس کا کہنا ہے۔
کہ فنگر پرنٹ ہماری پہچان ہے، اسی بنیاد پر فراڈ کا نیا دروازہ کھل رہا ہے اور ذاتی معلومات ہی خطرہ بنتی جارہی ہیں۔

منگلور سٹی پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: آدھار یا بائیو میٹرک کی تصدیق کی آڑ میں کیے جانے والے فون کالز کو نظر انداز کیا جائے۔غیر واضح کالز، لنکس اور مشکوک پیغامات کا جواب نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ وقتاً فوقتاً آگاہی مہم چلا رہا ہے مگر عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہر حال میں احتیاط برتیں، ہوشیاری اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔

سائبر فراڈ سے بچنے کے اہم اقدامات: سائبر ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی ویب سائٹ یا M-Aadhaar ایپ کے ذریعے بائیو میٹرک لاک کریں، ضرورت پڑنے پر چند لمحوں کے لیے ان لاک کرسکتے ہیں۔بینک ٹرانزیکشنز کی باقاعدہ جانچ کرتے رہیں۔نامعلوم نمبرز اور لنکس پر کلک نہ کریں۔  خصوصاً فوٹو کاپی اور پرنٹنگ مراکز میں فنگر پرنٹ دیتے وقت احتیاط برتیں۔او ٹی پی یا آدھار کی تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔اور فراڈ کی صورت میں فوری سائبر ہیلپ لائن 1930 پر رابطہ کریں۔

سائبر ماہرین اور پولیس دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ٹیکنالوجی سہولت کے ساتھ خطرات بھی لاتی ہے، اور ان خطرات سے محفوظ رہنے کا واحد راستہ زیادہ سے زیادہ آگاہی اور محتاط رویہ اختیار کرنا ہے۔

Click here for report in English


Share: