ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / G20 اجلاس: شہزادہ محمد سعودی عرب کے مندوب

G20 اجلاس: شہزادہ محمد سعودی عرب کے مندوب

Mon, 05 Sep 2016 16:00:51    S.O. News Service

ہانگ زو5؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)دُنیاکی20بڑی معاشی طاقتوں پرمشتمل جی 20 گروپ کے ممبران کا نمائندہ اجلاس پہلی بار عوامی جمہوریہ چین میں شہر ہانگ زو میں شروع ہوگیا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کی طرف سے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نمائندگی کررہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان جو پہلے ہی ایشیائی دورے پر ہیں،ہفتے کی شام ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچے تھے۔ چین پہنچنے کے بعد انہوں نے چینی صدر شی جین پینگ اورجی20 اجلاس میں شرکت کرنے والے عالمی رہ نمااوروفودسے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں سعودی عرب اورجی 20کے ممبر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے فروغ سے اتفاق کیا گیا۔کل اتوار کے روز منعقد ہونے والے G20اجلاس میں عالمی اقتصادی ترقی کے حوالے سے کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں معاشی ترقی کے نئے راستوں کا تعین، فعال عالمی اقتصادی حکمرانی، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو تحفظ اور معاونت فراہم کرنا اور متوازن و جامع عالمی ترقی کو یقینی کے لیے ٹھوس اقدامات جیسے موضوعات بہ طورخاص زیر بحث آئے۔اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر ثقافت واطلاعات عادل الطریفی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت سے قبل الطریفی نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین کی میزبانی میں منعقد ہونے والاG20اجلاس کامیاب ہوگااوراس کے بہترین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تین مرکزی سیشنز کے ساتھ ساتھ تین اختتامی سیشن بھی منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں پوری دنیا میں معاشی بحران، بے روزگاری، غربت، انسداد دہشت گردی جیسے موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ اس موقع پر سعودی عرب اور چین کے درمیان اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے کئی اہم اعلانات بھی کیے جائیں گے۔چین میں جی 20 اجلاس کے موقع پر سعودی نائب ولی عہد نے روسی صدر ولادی میر پوتن سمیت کئی عالمی رہ نماؤں سے ملاقات کی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ریاض اور ماسکو کے درمیان تعاون کے نتیجے میں تیل کی عالمی منڈی کو فائدہ پہنچے گا۔بعد ازاں شہزادہ محمد بن سلمان نے جی ٹونٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے دیگر رہ نماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔خیال رہے کہ سعودی عرب اور روس تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ کو بہت کمزور کیا ہے اور ماسکو اور ریاض مل کر بین الاقوامی آئل مارکیٹ کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد روسی صدر نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ روس اور سعودی عرب کے درمیان اوپن ڈائیلاگ کا عمل جاری رہنا چاہیے۔چین میں جاری جی20اجلاس کی کوریج کے لیے العربیہ کی ٹیم بھی موجود ہے۔ العربیہ چینل کی ٹیم کے سربراہ لارا حبیب نے اجلاس میں زیرِبحث موضوعات پر روشنی ڈالی۔ لارا کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین نے اجلاس کے دوران سنہ2015ء کے آخر میں پیرس میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے بین الاقوامی ماحولیاتی تحفظ کے معاہدے کی توثیق کردی ہے۔العربیہ کی نامہ نگار نے بتایا کہ چین نے جی 20 اجلاس کی تیاری اور میزبانی کے لیے اربوں کی رقم خرچ کی ہے۔ اجلاس کے مقام سے عام آبادی کو دور ہٹانے کے ساتھ آسمان میں مختلف طرح کے رنگ بکھیرنے اور ہانگ زو میں ماحول کو صاف رکھنے کے لیے ہزاروں کاروخانوں کو عارضی طور پربند رکھا گیا ہے۔اس موقع پر عالمی مانیٹری بنک کی طرف سے جی 20 کے شرکاء سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالمی تجارتی معاہدوں کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ اوپن مارکیٹ کے تصور کو فروغ دیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ جی 20ممالک اس وقت پوری دنیا کی 80فی صد معیشت کی نمائندگی کرتے ہیں۔اجلاس میں عالمی ماحولیاتی مسائل اور ماحولیات تحفظ جیسے موضوعات بھی زیربحث آئیں گے۔ اس ضمن میں پیرس کانفرنس کی روشنی میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے چین اور سعودی عرب کے درمیان بھی سمجھوتہ طے پانے کی توقع ہے۔اجلاس میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے اعلان کے بعد برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے بھی شرکت کی ہے تاہم یورپی یونین نے جی20کے اجلاس سے فائدہ اٹھانے کی برطانوی کوششوں کو مسترد کردیا ہے۔روس اور چین کی جانب سے اسٹیل کی بھاری مقدارپیدا کرنے کے نتیجے میں اس کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ بھی جی 20 اجلاس کیایجنڈے کا حصہ ہوگا۔چین کے صدر شی جین پنگ نے کہا ہے کہ عالمی معیشت میں بہتری آ رہی ہے تاہم ابھی بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے عالمی رہ نماؤں پر زور دیا کہ وہ کھوکھلے مذاکرات سے اجتناب کریں۔چین کے شہر ہانژوا میں جی 20 گروپ کے رکن ممالک کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت کو درپیش مسائل کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کو جی 20اجلاس سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔اجلاس میں دیگر اہم مسائل پر بات چیت کے علاوہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے، بین الاقوامی سٹیل کی منڈی کو درپیش بحران اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے ٹیکس مامعلات پر بھی غور کیا جائے گا۔جی20اجلاس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)نے خبردارکیا تھا کہ اس برس بھی عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار کی پیشن گوئی میں کمی کاامکان ہے ۔یاد رہے کہ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے حق میں ووٹ آنے کے بعد آئی ایم ایف پہلے ہی رواں برس کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کے ٹارگٹ میں کمی کا اعلان کر چکی ہے۔اجلاس سے یورپی یونین کے ہائی کمشنر جان کلوڈی یونکر،برطانوی وزیراعظم تھریسا مے، آسٹریلوی وزیراعظم مالکو ٹرنبول، جاپان کے ڈپٹی اسپیکر کوچی ھاجیوڈا اور جرمن چانسلر انجیلا مریکل بھی خطاب کیا۔


Share: