ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ₹2000 کے بند نوٹوں کی واپسی تاحال نامکمل، 5 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم عوام کے پاس

₹2000 کے بند نوٹوں کی واپسی تاحال نامکمل، 5 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم عوام کے پاس

Mon, 05 Jan 2026 11:45:58    S O News

نئی دہلی ، 5 /جنوری (ایس او نیوز / ایجنسی)ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے سال 2023 میں سرکولیشن سے باہر کیے گئے دو ہزار روپے کے گلابی نوٹوں کی مکمل واپسی اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ ریزرو بینک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے اختتام تک ان نوٹوں کی 98.41 فیصد واپسی ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود 5669 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے نوٹ ابھی بھی عوام کے پاس موجود ہیں۔ یہ صورتِ حال اس کے باوجود سامنے آئی ہے کہ ریزرو بینک نے ان نوٹوں کی واپسی اور تبدیلی کے لیے مختلف سہولتیں فراہم کی تھیں۔

ریزرو بینک نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان نوٹوں کو انیس مئی 2023 کو چلن سے باہر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تو اس وقت بازار میں 356000 کروڑ روپے مالیت کے دو ہزار کے نوٹ موجود تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی واپسی کا عمل جاری رہا، تاہم ابتدائی مہینوں کے بعد اس رفتار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2025 کے آخر میں مارکیٹ میں موجود ان نوٹوں کی مالیت 5817 کروڑ روپے تھی، جو دسمبر کے آخر تک گھٹ کر 5669 کروڑ روپے رہ گئی۔ یعنی دو مہینوں کے دوران محض 148 کروڑ روپے کے نوٹ ہی واپس آ سکے۔

ریزرو بینک نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ سرکولیشن سے باہر کیے جانے کے باوجود دو ہزار روپے کے یہ نوٹ مکمل واپسی تک قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں کو اب بھی انہیں تبدیل یا جمع کرانے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، واپسی کی سست رفتار نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آخر اتنی بڑی رقم اب بھی عوام کے پاس کیوں موجود ہے۔

دو ہزار روپے کے نوٹ دراصل نومبر 2016 میں متعارف کرائے گئے تھے، جب 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کیے گئے تھے۔ بعد ازاں دیگر مالیت کے نوٹوں کی مناسب دستیابی کے بعد ریزرو بینک نے اپنی کلین نوٹ پالیسی کے تحت 19 مئی 2023 کو ان نوٹوں کو چلن سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

ابتدا میں تمام بینک شاخوں کے ذریعے تبدیلی کی سہولت دی گئی، لیکن سات اکتوبر 2023 کے بعد یہ عمل محدود کر کے ریزرو بینک کے منتخب دفاتر تک کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈاک کے ذریعے بھی نوٹ بھیج کر تبدیلی کی سہولت دی جا رہی ہے، تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


Share: