ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری؟ بالا رام پاٹل نے عدالت سے رجوع کیا، 85 ہزار ڈپلیکیٹ ووٹوں کا دعویٰ

انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری؟ بالا رام پاٹل نے عدالت سے رجوع کیا، 85 ہزار ڈپلیکیٹ ووٹوں کا دعویٰ

Wed, 27 Aug 2025 17:59:02    S O News

ممبئی، 27 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کے انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری کے الزام سے 146 دن قبل ہی ایک سابق ایم ایل سی نے اسی طرح کی شکایت درج کی تھی اور انتخابی کمیشن کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔

پیژینٹس اینڈ ورکرز پارٹی (Peasants and Workers Party) کے امیدوار بالا رام پاٹل نے اپنے حلقہ پنویل میں بڑے پیمانے پر ووٹر فراڈ کا انکشاف کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ "یہاں شاید سب سے بڑی انتخابی دھاندلی کی گئی ہے۔ میں یہ بات ثبوتوں کے ساتھ کہہ رہا ہوں، اور انتخابات سے پہلے بھی یہی بات کہی تھی اور اب بھی دہرا رہا ہوں۔"

پاٹل نے دعویٰ کیا کہ پنویل اور ملحقہ حلقوں سے 85,211 ایسے ووٹروں کے نام ملے ہیں جنہیں یا تو دو بار یا تین بار درج کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق صرف پنویل میں ہی 25,855 ووٹروں کے نام ایک سے زیادہ بوتھ پر درج تھے، جب کہ پڑوسی حلقوں اوران اور ایروالی میں بھی اسی نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ مزید یہ کہ تقریباً 15,800 ووٹر ایسے بھی تھے جن کے نام پنویل اور بیلاپور دونوں حلقوں میں شامل تھے۔

پاٹل نے یہ تمام بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد پنویل کے سب ڈویژنل آفیسر، رائگڈ کے ضلع مجسٹریٹ، انتخابی افسران، مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر اور بالآخر الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات بھیجیں، لیکن کسی جانب سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مجبور ہو کر انہوں نے 26 ستمبر 2024 کو بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے دو ہفتے میں جواب دینے کی ہدایت دی، مگر پھر بھی کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔

انتخابات کے اعلان کے بعد معاملہ مزید دب گیا۔ بالا رام پاٹل کو پنویل سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں وہ اپنے حریف سے 51,091 ووٹوں سے ہار گئے۔ بعد ازاں انہوں نے تمام 574 بوتھوں کی انتخابی فہرست کا ریکارڈ طلب کیا مگر ان کا مطالبہ مسترد کردیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنوں اور آئی ٹی ماہرین کے ساتھ مل کر خود ہی ڈیٹا کا تجزیہ شروع کیا۔

پاٹل کا کہنا ہے کہ صرف پنویل میں ہی 11,628 ووٹ دوبارہ ڈالے گئے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ ان کی ہار جیت سے متعلق نہیں بلکہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔ ان کی ٹیم نے اب تک 574 میں سے 490 بوتھوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ مکمل کیا ہے اور باقی 84 پر کام جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے وکلاء سے مشورہ کر رہے ہیں تاکہ آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ ممکن ہے کہ انتخابی افسران کے خلاف عدالت کی حکم عدولی (contempt of court) کی کارروائی کی جائے۔

اس بارے میں انتخابی افسران سے تبصرہ لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے اور جواب موصول ہونے پر اسے شائع کیا جائے گا۔


Share: