ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کینیڈا:بزرگ جوڑا علیحدہ رہنے پر مجبور

کینیڈا:بزرگ جوڑا علیحدہ رہنے پر مجبور

Sat, 27 Aug 2016 16:19:43    S.O. News Service

کینیڈا،27؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)کینیڈا میں گذشتہ 62برسوں سے ساتھ رہنے والے ایک بزرگ میاں بیوی کی جوڑی پچھلے کئی ماہ سے الگ الگ کیئر ہومز میں رہنے پر مجبور ہے۔83سالہ گوٹچاک اولفرام اور 81برس کی ان کی بیوی انیتا کی تصویر جب ان کی پوتی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تو وہ وائرل ہوگئی۔29سالہ اشلے بائرک کا کہنا ہے کہ چونکہ برٹش کولمبیا کے سرے علاقے میں ان کے دادا دادی کے لیے ایک ہی کیئر ہوم میں کمرہ دستیاب نہیں ہے اس لیے وہ الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں۔مسٹر گوٹچاک بھی کافی دنوں سے اس انتظار میں ہیں کہ انھیں کب اس مکان میں منتقل کیا جائے گا جس میں ان کی اہلیہ کو ٹھہرایا گیا ہے۔گذشتہ منگل کو بائرک نے اپنے دادا دادی کی، اومی اینڈ اوپی کے نام سے ایک بڑی جذباتی تصویر پوسٹ کی جس میں دونوں اپنے آنسو پوچھ رہے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ میں نے جو فوٹو لیے ہیں ان میں سے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ان کی پوتی بائرک کا کہنا ہے کہ دادا کو دل کی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے انھیں جنوری میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا اسی کے بعد سے وہ دادی سے الگ رہنے پر مجبور ہوئے۔دادی نے بھی اسی نرسنگ ہوم میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس طرح کا کمرہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ علحیدہ رہنے پر مجبور ہیں۔محترمہ بائرک نے بی بی سی کو بتایا کہ میرے دادا دادی کے لیے یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے، وہ اپنے شوہر کو ہر روز اپنے گھر لانا چاہتی ہیں۔میاں بیوی دونوں تقریباً آٹھ ماہ سے الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں اور جب دونوں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو رونے لگتے ہیں۔بائرک کا کہنا کہ جب انھیں اسی ہفتے پتہ چلا کہ ان کے دادا کینسر میں مبتلا ہیں تو انھوں نے جوڑے کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے فوری ضرورت کے تحت مدد کے لیے فیس بک پر اپیل کی۔خاندان فیس بک پر ملنے والی حمایت سے بہت خوش ہے لیکن اس نے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا فنڈ لینے سے انکار کر دیا۔ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت میں بہت کام باقی رہتا ہے اور تاخیر کی وجہ سے ہی وہ الگ الگ رہنے پر مجبور ہیں۔بائرک کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں فریزر ہیلتھ سے کئی بار گذارش بھی کی گئی تاہم اب تک کوئی جواب نہیں ملا تھا لیکن جمعرات کو ایک خاتون ترجمان نے انھیں فون کرکے بتایا ہے کہ ان کی دادی کے لیے ایک بیڈ کا انتظام ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔خاندان فیس بک پر ملنے والی حمایت سے بہت خوش ہے لیکن اس نے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کا فنڈ لینے سے منع کر دیا اور کہا کہ اس سے کینیڈا میں بزرگوں کی دیکھ بھال کا جو نظام ہے اس سے لوگوں کی توجہ ہٹ جائے گی۔بائرک کہتی ہیں کہ اس سے وہ مقصد فوت ہوجائے گا کہ جس کے پاس ایسے کیئر ہومز میں نجی بیڈ لینے کی سکت نہیں ہے وہ کہاں جائیں گے اور ان کا کیا ہوگا؟۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کی توجہ اس بات پر ہو کہ ہمارے نظام میں جو خامیاں ہیں انھیں درست کریں فنڈ لینے سے یہ بات نہیں بنے گی۔


Share: