بنگلورو، 5؍جولائی(ایس او نیوز)وزیراعلیٰ سدارامیا نے آج کہا ہے کہ ریاستی حکومت مسلسل تیسرے سال سست مانسون کے سبب دریائے کاویری اور اس کی ذیلی ندیوں کے ریزروائرس میں پانی کی شدید قلت سے سپریم کورٹ کو واقف کروائے گی۔بالائی ریاست تمل ناڈو کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے کاویری کا پانی جاری کرنے کے احکام پر کرناٹک کی جانب سے عمل نہ کئے جانے کا الزام لگانے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریاست میں مانسون کے داخل ہونے کے ایک ماہ کے باوجود آبگیر علاقوں میں کم بارش ہوئی ہے اور اس بات کوسپریم کورٹ کے علم میں لایاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ دہلی میں ہمارے وکلا سپریم کورٹ میں موثر بحث کریں گے اورمیں کرناٹک کے اٹارنی جنرل سے اس مسئلہ پرتبادلہ خیال کروں گا۔انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بات کہی۔تمل ناڈو نے جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت بنچ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں عرضی داخل کرے گی ۔ریاست کی دلیل ہے کہ ستمبر 2016میں عدالت عظمی کی جانب سے دئے گئے 22.550ٹی ایم سی کے احکام سے اس کوچھ ٹی ایم سی پانی کی کمی ہورہی ہے تاہم کرناٹک کے محکمہ آبی وسائل کے سرکردہ افسرنے کہا کہ کاویری کے ریزروائر میں پانی کی کافی کمی ہے اور اگرمانسون میں شدت پیدا نہیں ہوئی تو مسلسل تیسرے سال بھی پانی کی شدید قلت ہوگی۔اس افسر نے یاددہانی کروائی کہ ریاست نے 192 ٹی ایم سی فیٹ کے برخلاف تمل ناڈو کو 2014-15کے دوران 229ٹی ایم سی فیٹ پانی جاری کیا تھا، کیونکہ بہتر بارش ہوئی تھی تاہم گزشتہ دو سالوں سے ریاست کے آبگیر علاقوں میں بارش کی کمی ہورہی ہے ۔