بنگلورو۔2/ستمبر(ایس او نیوز) اراضی گھپلے میں الجھے ریاست کے چیف سکریٹری اروند جادھو کے معلق مستقبل کو دیکھتے ہوئے ان کے جانشین بننے کیلئے سینئر آئی اے ایس عہدیداروں میں ابھی سے رسہ کشی کافی شدت اختیار کرچکی ہے۔ 30 ستمبر کو ویسے بھی اروند جادھو اپنی سرکاری خدمات سے سبکدوش ہوجائیں گے، یا پھر اس سے پہلے اراضی گھپلے میں ان کے ملوث ہونے کا ثبوت باہر آیا یا پھر کوئی قانونی کارروائی ہوئی تو انہیں استعفیٰ بھی دینا پڑ سکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے اگر تحقیقاتی رپورٹ کو روک کر بھی رکھا گیاتو 30 ستمبر کو کسی بھی حال میں اروند جادھو کو سبکدوش ہونا پڑے گا۔موجودہ حالات میں ریاستی حکومت کی طرف سے ایک بار پھر اروند جادھو کو توسیع دئے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ چیف سکریٹری کے عہدے پر آنے کیلئے اڈیشنل چیف سکریٹری کے رتنا مالا، ایس بی پٹنائک اور سبھاش چندر کنٹاریہ کے درمیان زبردست رسہ کشی چل رہی ہے، تینوں اعلیٰ عہدیدار 1981 کی آئی اے ایس بیچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس وقت اروند جادھو کو چیف سکریٹری بنایا گیا رتنا مالا تب بھی دوڑ میں شامل رہیں۔تاہم ایک طاقتور کانگریس لیڈر کے مشورہ پر سدرامیا نے اروند جادھو کے نام کو منظوری دی۔ جون میں ہی اروند جادھو کی میعاد مکمل ہوگئی تھی، لیکن ان میں تین ماہ کی توسیع کی گئی۔اب جبکہ دوبارہ ان کی توسیع کا امکان بہت کم ہے، رتنا مالا چیف سکریٹری کے عہدے کی مضبوط ترین دعویدار بن کر ابھر ی ہیں۔ لیکن ان پر بھی ایک تنازعہ میں الجھنے کا الزام ہے۔ آندھرا پردیش کی ہندو ٹیک نامی کمپنی قائم کرنے کیلئے رتنا مالا پر غیر قانونی طریقے سے زمین خریدنے کا الزام ہے۔ حالانکہ معاملے کی جانچ کرکے سی بی آئی نے اپنی رپورٹ پیش کی جس کے بعد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے انہیں کلین چٹ دی ہے، لیکن موجودہ تلنگانہ حکومت نے ایک بار پھر اس معاملہ کی جانچ کیلئے خصوصی عدالت سے اپیل کی ہے جس کی وجہ سے ان کے چیف سکریٹری بننے میں دشواری کھڑی ہوسکتی ہے۔ایک اور آئی اے ایس آفیسر بی پی آچاریہ کا نام بھی چیف سکریٹری کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن ان پر بھی اراضی گھپلے میں ملوث ہونے کے الزامات کے سبب ان کو خاطر میں نہ لائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اس طرح چیف سکریٹری کے عہدے دعویداروں میں صرف دو نام ایس وی پٹنائک اور سبھاش کنٹاریہ رہ جائیں گے۔ایس بی پٹنائک فی الوقت مرکزی وزارت زراعت کے سکریٹری ہیں، اور کنٹاریہ وزارت سے فروغ انسانی وسائل کے تحت ساکشرتا مشن کے سربراہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے ان دونوں افسران میں کس کو چنا جائے گا یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔