چنتامنی:4 /ستمبر(محمد اسلم؍ایس او نیوز) دیہی علاقوں میں رہنے والے اکثر لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے۔ بے گھر لوگوں کی نشاندہی کرکے فوراََ انہیں گھر تعمیر کرکے دیا جائے ۔ حال ہی میں ایس ۔سی اور ایس۔ٹی۔ طبقہ کے لوگوں کو 18مکانات تعمیر کرکے دیا گیا ہے بے گھر لوگ گھر حاصل کرنے کے لئے عرضیوں کو گرام پنچایت دفاتر میں جمع کرائے ہیں فوراََ ان عرضیوں کی جانچ کی جائے یہ بات ضلع پنچایت کے سابق رُکن گڈے شرنیواس ریڈی نے کہی۔ وہ یہاں تعلقہ ایرگمپلی گرام میں منعقدہ گرام سبھا پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتماگاندھی راشٹریہ گرامین اسکیم کے تحت جاب کارڈرکھنے والوں کے اکاؤنٹ کوبراہ راست جمع کردیا جائے گا۔اور سوچھ بھارت اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں جن گھروں کو بیت الخلاء نہیں ہے ان گھروں کو بیت الخلاء تعمیر کرکے دیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں صفائی کے لئے گاؤں میں موجود ہر مکان کے لئے بیت الخلاء بنایا جانا لازمی ہے کیونکہ بہتر صحت اور صاف ستھراگاؤں کے لئے یہ بات بے حد ضروری بن گئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں میں پینے کے لئے تازہ اور صاف پانی مہیا کیا جارہا ہے تاہم گرامین علاقوں میں جہاں پر تالابیں موجود ہیں وہاں کے مقامی عوام ان تالابوں کے قریب گندگی پھیلارہے ہیں جس کے باعث صاف وشفاف پانی جو پینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اس میں جراثیم پیداہوسکتے ہیں اور اس پانی کو پینے سے عوامی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔اس موقع پر تعلقہ پنچایتی ای۔او۔شرنیواس نے بھی خطاب کیا۔ پی ڈی او ننجاریڈی ،گرام پنچایت صدراین۔وی۔کنکاما ہرش وردھن دیویندرہ کمار سمیت کئی لوگ موجود تھیں۔