ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پوٹا معاملے میں ریاستی حکومت کی عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ نے کی مسترد؛ پانچ مسلم نوجوانوں کو راحت ، جمعیۃ کی کامیاب نمائندگی

پوٹا معاملے میں ریاستی حکومت کی عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ نے کی مسترد؛ پانچ مسلم نوجوانوں کو راحت ، جمعیۃ کی کامیاب نمائندگی

Mon, 29 Aug 2016 19:28:32    S.O. News Service

ممبئی29؍ اگست (ایس او نیوز؍موصولہ) ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں 2002/3 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں ریاستی حکومت کو اس وقت شدید دھچکہ پہنچایا جب مقدمہ میں مجرم گردانے گئے تین مسلم نوجوانوں کو مزید سخت سزائیں دیئے جانے والی عرضداشت کو ہائی کورٹ نے مستر دکردیا وہیں باعزت بری ہونے والے دو ملزمین ندیم پابولا اور ہارون لوہار کے خلاف دائر اپیل کو بھی مسترد کردیا ۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر یوگ موہیت چودھری نے ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوک اور جسٹس اے اے سید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے باعزت بری اور ۲؍ سال سے لیکر عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی سزاؤں میں اضافہ کی عرضداشت داخل کی ہے لیکن سرکاری وکیل کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ باعزت رہا ملزمین اور سزا پانے والے بیشتر ملزمین نے ان کو تجویز کی گئی سزاؤں سے دوگنا سے زائد ایا م جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذار چکے ہیں نیز قانون کے مطابق ریاستی سرکار کو حق ہی نہیں ہیکہ سزاؤں سے زیادہ ایام جیل میں گذاریں۔ ملزمین کے خلاف سزائیں بڑھانے کی اپیل داخل کرے۔اس تعلق سے یوگ چودھری نے عدالت میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے متعدد حکم ناموں کی نقول بھی پیش کی ۔

ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ایک جانب جہاں ۲؍ سال کی سزا پائے مجرمین محمد کامل محمد جمیل، نور محمد عبدالمالک انصاری، انور الی جاوید علی خان کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا وہیں ۱۰؍ سال اور عمر قید کی سزا پانے والے مجرمین کی سزاؤں میں مزید اضافہ کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا ہے ۔

اس معاملے میں جمعیۃ علما ء کی جانب سے یوگ چودھری نے محمد کامل ،نور محمد اور ہارون لوہا ر کے لیئے بحث کی جنہیں جمعیۃ نے قانونی امداد فراہم کی۔ 

واضح رہے کہ خصوصی پوٹا عدالت کے جج پی آر دیشمکھ نے کل چار مجرمین کوسزائے عمر قید ، تین مجرمین ثاقب ناچن ،عاطف ملا اور عاکف ملا کو دس سال کی سزائیں تجویز کی تھی اور دیگر مجرمین محمد کامل ،نور محمد اور ڈاکٹر انورعلی کو دو سال قید بامشقت کی سزائیں تجویز کی تھی ۔

یاد رہے کہ2002/3 کے درمیان ممبئی کے تین الگ الگ مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کے الزام میں تحقیقاتی دستوں نے ۱۶؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور تینوں معاملے کی مشترکہ تفتیش کے بعد ملزمین کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی تھی ۔
تحقیقاتی دستوں کے مطابق پہلا بم دھماکہ ۶؍ دسمبر ۲۰۰۲  کو ممبئی سینٹرل کے قریب ہوا تھا جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ دوسرا بم دھماکہ ۲۷؍ جنوری ۲۰۰۳  کو ولے پارلے میں ہوا تھا جس میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی نیز تیسرا بم دھماکہ دوسرے دھماکہ کے ۴۲؍ دنوں کے بعد ملنڈ میں ہوا تھا جس میں ۱۲؍ افراد ہلاک اور ۱۷؍ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔

ممبئی ہائی کورٹ میں آج جمعیۃ علماء کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ، ایڈوکیٹ افضل نواز ، ایڈوکیٹ محمد ارشد و و دیگر وکلاء موجود تھے ۔


Share: