بنگلورو۔یکم اگست(عبد الحلیم منصور/ایس او نیوز)مہادائی مسئلہ پر جہاں ناانصافی کی وجہ سے پوری ریاست میں آگ لگی ہوئی ہے شمالی کرناٹک کے چار اضلاع کے عوام پینے کے پانی کیلئے ترسنے پر مجبور ہوگئے ہیں تو دوسری طرف اس مسئلے پر ریاستی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں پیروی کرنے والے وکیلوں نے اس کیس کو اپنے دھندے کا ذریعہ بناکر اب تک سینکڑوں کروڑ روپے ریاستی خزانے سے بٹور لئے ہیں۔ سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والے کچھ وکیلوں نے بھی اس کیس میں اپنی جیب گرم کی ہے۔ کورٹ میں اس کیس کی پیروی کیلئے خصوصی کانفرنس ، مشورہ ، میٹنگ وغیرہ کیلئے یہ لوگ فرسٹ کلاس فضائی سفر کیلئے کروڑوں روپے بٹور چکے ہیں۔ان وکیلوں کا قیام فائیو اسٹار سے کم درجے کی ہوٹلوں میں نہیں ہوتا۔ یہ سارا خرچ ریاستی حکومت کو عوام کے پیسوں سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔مہادائی کے 7.5ٹی ایم سی فیٹ پانی کیلئے حکومت نے وکیلوں کی اس ٹیم پر 150کروڑ روپے پانی کی طرح بہادئے ہیں، مگر معاملے کی سماعت جب مکمل ہوئی تو نتیجہ صفر ہی سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کیس میں قانونی ٹیم کی قیادت کرنے والے وکیل فالی ایس نریمن کو ایک بار عدالت میں حاضر ی کی فیس 4.5لاکھ روپے دینی پڑتی ہے۔ان کے وقت میں اگر ایک گھنٹہ بھی بڑھ گیاتو انہیں ایک لاکھ روپے افزود دینے پڑتے ہیں۔ اس مسئلے پر اب تک فالی ایس نریمن نے 50گھنٹوں کی کانفرنس کی ہے ، جس کیلئے حکومت نے 70.2لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔ یہاں تک کہ مہادائی مسئلے پر قانونی مشاروت کرنے والی ٹیم کے کلرکوں پر حکومت نے 26 لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔اس ٹیم میں شامل ایک کمسن وکیل نشانت پاٹل ریاستی ہائی کورٹ کے جج ایس کے پاٹل کا لڑکا ہے۔ حکومت نے اس پر 82لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔ 2009 میں پیشۂ وکالت اختیار کرنے والے نشانت پاٹل کو 2011 میں ہی مہادائی ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ حکومت نے اب تک فالی ایس نریمن پر 2.6 کروڑ روپے ، موہن کتارکی پر 2.41 کروڑ روپے ، ایس ایس جاؤلی پر 1.14کروڑ روپے ، انیتا شینائی پر 1.04کروڑ روپے، نشانت پاٹل پر82 لاکھ روپے، ایم بی ضلاری پر 80لاکھ روپے ، برگیش کالپا پر 67 لاکھ روپے ، ایس سی شرما پر 41لاکھ روپے، کاشی وشویشور پر 27لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔
مہادائی مسئلہ پر نظر ثانی عرضی داخل کی جائے: راجیو چندر شیکھر
رکن راجیہ سبھا راجیو چندر شیکھر نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ شمالی کرناٹک کے اضلاع کو پینے کے پانی کی فراہمی کے سلسلے میں دریائے مہادائی کا پانی حاصل کرنے کی خاطر حکومت فوراً سپریم کورٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی دائر کرے۔ اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہاکہ مہادائی کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں ٹریبونل نے جو عبوری فیصلہ سنایا ہے، اس سے ریاست کو زبردست دھکا پہنچا ہے۔ فوری طور پر ریاستی حکومت کو نظر ثانی کی عرضی دائر کرتے ہوئے شمالی کرناٹک کے اس حصہ کے عوام کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ماہرین قانون مہادائی ٹریبونل کے سامنے اس مسئلے پر ٹھیک طرح سے پیروی کرنے میں ناکام رہے ، جس کی وجہ سے ٹریبونل کا فیصلہ کرناٹک کے مفادات کے خلاف ہوا ہے۔ راجیو چندر شیکھر نے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس مسئلے پر گندی سیاست ترک کرکے مسئلے کا حل نکالنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔