اپوزیشن شیوراج سنگھ چوہان کے استعفیٰ پربضد،کسانوں پرفائرنگ پرایوان میں گھیرا
بھوپال،18؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش حکومت نے منگل کو مانسون اجلاس کے دوسرے دن اسمبلی میں کہا کہ مندسور میں تشدد کے پیچھے افیون کے اسمگلروں کا ہاتھ تھا۔حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تشدد روکنے کے لیے پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی جس میں کچھ کسانوں کی موت ہوئی۔اپوزیشن نے ایک بار پھر اس مسئلہ پر وزیراعلیٰ کے استعفیٰ کامطالبہ دوہرایا ہے۔منگل کو کانگریس کے ملتوی پیشکش پر خطاب کرتے ہوئے پنچایتی راج اور دیہی ترقیات کے وزیر گوپال بھارگو نے کہا کہ حکومت افیون مافیا پر سخت ہے اور اسی سے توجہ بھٹکانے کے لئے مندسور میں پرتشدد سازش رچی گئی۔کانگریس ممبر اسمبلی گووند سنگھ سمیت47ارکان کی طرف سے ریاست میں ہو رہی کسانوں کی حالت زار اور مندسور میں چھ جون کو غیر مسلح مظاہرین پر پولیس فائرنگ کے معاملے میں ملتوی پیشکش پر بحث کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے پنچایت اوردیہی ترقیات کے وزیر گوپال بھارگو نے کہاکہ ڈوڈہ چورا اور افیون پر حکومت نے پابندی عائدکی ہے۔اس پر پولیس اورریاستی حکومت کی سختی کی وجہ سے افیون اسمگلر اسے باہر نہیں لے جا پا رہے ہیں۔اپنی بات کو صحیح ٹھہرانے کے لئے انہوں نے دلیل دی کہ مدھیہ پردیش میں اگر کسان پریشان ہیں، تو کسانوں کی یہ تحریک صوبہ کے دیگر حصوں میں کیوں نہیں ہوئی۔یہ مندسور ضلع میں ہی کیوں مرکوز تھا اور وہیں کیوں تشدد، آگ زنی اور توڑپھوڑ کے واقعات ہوئے۔